سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 120 of 677

سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 120

120 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ دیا گیا ہر شخص کو اپنی جان و مال کا دغدغہ لگا ہوا تھا۔دن کا چین اور رات کا آرام حرام ہو گیا تھا۔جوں جوں محاصرہ تنگ ہوتا جاتا تھا۔توں توں شہر کی آفت بڑھتی جاتی تھی۔شہر پر اس قدر گولے پڑتے تھے کہ فصیل اور متصلہ مکانات چھلنی ہو گئے تھے۔بعض لوگ گولوں سے ہلاک بھی ہوتے جاتے تھے۔چند ماہ کے محاصرہ کے بعد دتی انگریزوں نے فتح کر لی اور باغی فوج وہاں سے بھاگ گئی۔دتی والوں کی شامت آگئی۔کر گیا ڈاڑھی والا۔پکڑا گیا مونچھوں والا۔نانی نے خصم کیا اور نواسہ پر جرمانہ ہوا۔فتح مندوں نے شہر کو برباد کر دیا اور فتح کے شکریہ میں صدہا آدمیوں کو پھانسی چڑھا دیا۔مجرم اور غیر مجرم میں تمیز نہ تھی چھوٹا بڑا ادنی اعلیٰ برباد ہو گیا سوائے چوہڑے، چماروں ،سقوں وغیرہ کے یا ہندوؤں کے خاص محلوں کے کوئی لوٹ مار سے نہیں بچا۔ایک طوفان تھا کہ جس میں کچھ نظر نہیں آتا تھا غرضیکہ گہیوں کے ساتھ جو کا گھن بھی پس گیا۔شہر کے لوگ ڈر کے مارے شہر سے نکل گئے اور جو نہ نکلے تھے وہ جبراً نکالے گئے اور قتل کئے گئے۔اس حالت سے یہ معزز خاندان بھی بچ نہ سکا چنانچہ حضرت میر صاحب خود لکھتے ہیں کہ : یہ عاجز بھی ہمراہ اپنے کنبہ کے دتی دروازہ کی راہ سے باہر گیا چلتے وقت لوگوں نے اپنی عزیز چیزیں جن کو اٹھا سکے ہمراہ لے لیں۔میری والدہ صاحبہ نے اللہ ان کو جنت نصیب کرے میرے والد کا قرآن شریف جواب تک میرے پاس ان کی نشانی موجود ہے اٹھا لیا۔شہر سے نکل کر ہمارا قافلہ سر بصحرا چل نکلا اور رفتہ رفتہ قطب صاحب تک جودتی سے گیارہ میل پر ایک مشہور خانقاہ ہے جا پہنچا۔وہاں پہنچ کر ایک دوروز ایک حویلی میں آرام سے بیٹھے رہتے تھے کہ دنیا نے ایک اور نقشہ بدلا۔یکا یک ہڈسن صاحب افسر رسالہ مع مختصر ار دل کے قضاء کی طرح ہمارے سر پر آ پہنچے اور دروازہ کھلوا کر ہمارے مردوں پر بندوقوں کی ایک باڑ ماری اور جس کو گولی نہ لگی اس کو تلوار سے قتل کیا یہ نہیں پوچھا کہ تم کون ہو ہماری طرف کے ہو یا دشمنوں کے طرفدار ہو۔اسی یک طرفہ لڑائی میں میرے چند عزیز را ہی ملک عدم ہو گئے۔پھر حکم ملا کہ فوراً یہاں سے نکل جاؤ حکم حاکم مرگِ مفاجات ہم سب زن و مرد و بچہ اپنے مردوں کو بے گور و کفن چھوڑ کر رات کے اندھیرے میں حیران و پریشان وہاں سے روانہ ہوئے لیکن بہ سبب رات کے اندھیرے اور سخت واژگون کی تیرگی کے رات بھر قطب صاحب کی لاٹ کے گرد