سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 119 of 677

سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 119

119 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ خواجہ سید ناصر امیر صاحب کی وفات • استمبر ۱۸۵۴ء میں ہوئی۔زمانہ تعلیم کا آغاز چونکہ پانچ چھ سال سے ہوتا ہے۔اس لئے یہی قیاس لگایا جا سکتا ہے کہ والد کی وفات کے وقت ان کی عمر بارہ تیرہ سال کی ہوگی۔ان کی وفات سے دواڑھائی سال بعد غدر ہوا اور غدر کے سال ڈیڑھ سال بعد آپ کی شادی ہوئی تو قرین قیاس یہی ہے کہ ۱۸۲۵ء یا ۱۸۳۶ء کے اندر آپ کی پیدائش ہوئی ہوگی۔آپ کی پیدائش کے وقت آپ کے گھر میں سجاد گی تھی۔آپ کے والد صاحب خواجہ میر درد کی گدی پر بیٹھے ہوئے تھے۔اگر چہ وہ شان و شوکت تو نہ تھی جو نواب خان دوران منصور جنگ کے زمانہ میں تھی۔مگر تا ہم شریفانہ طور پر گھر کا کام چل رہا تھا کیونکہ حضرت میر صاحب لکھتے ہیں کہ : سامانِ معیشت بظاہر کچھ نہ رہا۔فقط اللہ ہی کا آسرا تھا۔دادا صاحب اگر چہ موجود تھے مگر وہ اسی سالہ ضعیف تھے اور کچھ جائیداد بھی نہ رکھتے تھے اور جو جائیداد تھی وہ ہمارے خاندان سے جا چکی تھی اور مفلس محض رہ گئے تھے۔اس پر ظاہر آراستہ رکھنا بھی ضروری تھا۔یہ آخری فقرہ اس وقت کی حالت پر خوب روشنی ڈالتا ہے۔باوجود دولت وشوکت کے چلے جانے کے بعد خاندان کا رویہ ایسا تھا کہ دیکھنے والے جانتے تھے کہ جس طرح شرفاء اور باحیاء اپنی تکلیف کسی پر ظاہر نہیں ہونے دیتے تھے بالکل اسی طرح کسی کو معلوم نہ تھا کہ خاندان کی مالی حالت کیسی ہے۔ایسی حالت میں حضرت میر صاحب کے کنبہ کی کفالت کا بوجھ نانا صاحب میر شفیع احمد صاحب ساکن فراشخانه نے اُٹھایا۔حضرت میر صاحب کے دو ماموں تھے بڑے ماموں ڈپٹی کلکٹر انہار تھے اور دوسرے جن کا نام میر ناصرحسین صاحب تھا وہ بھی مادھو پور ضلع گورداسپور میں محکمہ نہر ہی میں ملازم تھے۔ماموں صاحبان نے اس وقت مدد کی۔غدر کی مصیبت ابھی داغ یتیمی کا اثر دور نہیں ہوا تھا کہ ۱۸۵۷ء میں دہلی میں غدر ہو گیا۔غدر کی داستان بہت طویل ہے وہ اس مختصر کتاب میں نہیں آ سکتی۔مگر مختصر کیفیت اور وہ بھی حضرت میر صاحب کی زبانی یوں ہے کہ دتی غدر میں اُجڑ گئی اور تو اور شاہی خاندان بھی تباہ و برباد ہوگیا۔شہزادوں تک کو برسر عام قتل کر