سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 118
118 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ حضرت میر ناصر نواب صاحب اب ہم اس بزرگ انسان کا ذکر کرتے ہیں جس کا وجود ان تمام برکتوں کا جامع تھا جو ایک طرف خواجہ میر درد کے گھرانے کو حاصل تھیں اور دوسری طرف خواجہ علاؤ الدین عطار نقشبندی کے گھرانے کو حاصل تھیں یہ وہی بزرگ انسان تھا جس کے لئے مقدر تھا کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام جری اللہ فی حلل الانبیاء کا خسر کہلائے اور جس کی بیٹی کے لئے مقدر تھا کہ وہ رسول کریم ﷺ کی بعثت ثانیہ میں مومنوں کی ماں کہلائے۔یہی وہ خاتون تھی جسے میں نے بخارا سے آنے والی امانت قرار دیا تھا۔جس کو ہندوستان میں لانے کے لئے جہاں مسیح موعود نے پیدا ہونا تھا یہ خاندان جو محمد بین کا خاندان کہلایا ہند وستان ہجرت کر کے آیا تھا۔حضرت میر ناصر نواب میر ناصر امیر صاحب کے دوسرے بیٹے تھے اور دوسری بیوی محترمہ روشن آراء بیگم کے بطن سے پیدا ہوئے تھے۔حضرت میر ناصر نواب صاحب کے سن پیدائش کا صحیح علم نہیں۔البتہ ایک قیاسی حساب کی رو سے ۱۸۴۶ء آپ کا سن پیدائش بنتا ہے اور وہ قیاسی حساب یہ ہے کہ غدر ۱۸۵۷ء حضرت میر صاحب نے دیکھا تھا غدر کے بعد جب آپ کی عمر ۶ اسال کی ہوئی تو اس وقت آپ کی شادی ہوئی۔اس لحاظ سے اگر غدر کا زمانہ چار سال قبل کا رکھا جائے تو ان کو ۱۴ سال کی عمر میں غدر کا حادثہ پیش آیا اور دو سال بعد شادی قرار دی جائے تو سولہ سال کی عمر بن جاتی ہے۔اس لحاظ سے ۱۸۲۵ ء یا ۶ ۱۸۲ء کے قریب کا زمانہ قرار دیا جا سکتا ہے۔ایک دوسرا قرینہ حضرت میر صاحب نے اپنی خود نوشت سوانح عمری میں لکھا ہے: ایک زمانہ آیا کہ میں پیدا ہوا اور دبلی شہر میں جنم لیا۔خواجہ میر درد صاحب علیہ الرحمۃ کے گھرانے میں پیدا ہو کر نشو و نما پایا اور ان کی بارہ دری میں کھیل کود کر بڑا ہوا۔ان کی مسجد میں پڑھا کرتا تھا۔ماں باپ کے سایہ میں پرورش پا ر ہا تھا۔کوئی فکر واندیشہ دامن گیر نہ تھا کہ نا گہان میرے حال میں ایک تبدیلی پیدا ہوئی۔جس کا بظا ہر کسی کو وہم و گمان بھی نہ تھا۔اتفاقاً میرے والد ماجد کسی کام کے لئے بنارس تشریف لے گئے اور شاہ آباد آرہ میں ہیضہ سے ان کا انتقال ہوگیا اور میں مع اپنی دو ہمشیرہ کے یتیم رہ گیا۔1