سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 111
111 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ میر ہاشم علی صاحب میں لکھ چکا ہوں کہ نواب خان دوران نادر شاہ کی جنگ میں مارے گئے اُن کے ساتھ اُن کے بھائی مظفر خان اور اُن کے دو بیٹے بھی اس جنگ میں لڑ رہے تھے۔جن میں سے بڑے کا نام قمر الدین خان اور چھوٹے کا نام احتشام علی خان تھا۔احتشام علی خان کے بیٹے میر ہاشم علی خان تھے۔میر ہاشم علی صاحب غالباً کسی سرکاری منصب پر نہ تھے۔باپ دادا کی جائیداد ان کے گزارے کیلئے کافی ہوئی۔غدر ۵۷ء میں اُن کی عمر اسی سال کی ہو چکی تھی اور حضرت میر ناصر نواب صاحب نے اپنی خود نوشت سوانح عمری میں لکھا ہے کہ: دادا اسی سالہ ضعیف تھے اور کچھ جائیداد بھی نہ رکھتے تھے اور جو جائیداد تھی وہ ہمارے خاندان سے جا چکی تھی۔کا میر ہاشم علی صاحب کی اولاد میر ہاشم علی صاحب کے ایک صاحبزادے تھے جن کا نام خواجہ سید ناصر امیر صاحب تھا۔خواجہ سید ناصر امیر کی والدہ بی نصیرہ بیگم صاحبہ تھیں جو شاہ محمد نصیر صاحب رنج کی بیٹی تھیں۔بی نصیرہ بیگم کے بطن اور میر ہاشم علی صاحب کی صلب سے ایک صاحبزادی فرحت النساء بیگم اور ایک صاحبزادے یعنی سید ناصر امیر صاحب پیدا ہوئے۔فرحت النساء بیگم کی شادی حافظ منیر الدین صاحب سے ہوئی جو قصبہ جلیسر میں رہتے تھے۔اُن کے بطن سے دو بیٹے پیدا ہوئے۔جن کا نام حاجی کبیر الدین احمد صاحب اور پیر جی بشیر الدین احمد صاحب ہے۔یہ پیری مریدی کا سلسلہ رکھتے ہیں۔ان دونوں حضرات کا بفضلہ سلسلہ نسل چل رہا ہے۔سید نا صر ا میر صاحب سید ناصر امیر صاحب بن میر ہاشم علی صاحب کے جوان ہونے پر اُن کی پہلی شادی میر بھکاری صاحب کی دختر سعیدہ بیگم صاحبہ سے ہوئی۔یہ سعیدہ بیگم صاحب خواجہ محمد نصیر صاحب رنج کے نواسہ کی بیٹی تھیں۔اُن کے بطن سے ایک لڑکا سید ناصر وزیر پیدا ہوا۔کچھ عرصہ کے بعد انہوں نے دوسری شادی