سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 110 of 677

سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 110

110 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ اور کسی چیز کی کمی نہ تھی۔معلوم ہوتا ہے کہ نواب خان دوران کے دو ہی بیٹے تھے۔بڑے کا نام قمر الدین خان تھا جو محمد شاہ کا وزیر اعظم تھا اور چھوٹے کا نام احتشام علی خان تھا جو شاہی محلات کا داروغہ تھا۔احتشام علی خان کا ذکر مسٹر جیمس فریزر نے اپنی کتاب موسومہ نادر شاہ میں احتشام خان کے نام سے کیا ہے اور امیر الامراء کا خطاب جو اُس وقت سلطنت کے سب سے بڑے آدمی کو حاصل تھا، اس خاندان سے نکل کر نواب آصف جاہ اوّل کی طرف منتقل ہو گیا اور بالآخر یہ خطاب ہی سلطنت کی تباہی کا باعث ہوا۔بُر ہان الملک کو امید تھی کہ یہ خطاب مجھے ملے گا۔مگر جب آصف جاہ اوّل کو مل گیا تو برہان الملک نے وہ کچھ کیا جو غذاری کے مفہوم میں داخل ہو گیا۔آخری واقعہ نواب خان دوران کا اس شجاعت اور بہادری کا ثبوت دیتا ہے جس کی مثال نہیں مل سکتی۔اس کی غیرت نے پسند نہ کیا کہ وہ برہان الملک کی فوج کو موت کے منہ میں جھونک دے۔وہ خود مٹ گیا مگر اپنے خون سے تاریخ میں یہ ثبت کر گیا۔ثبت است بر جریده عالم دوام ما صمصام الدولہ دن کو ایک بہادر سپاہی تھا اور رات کو اس کی مجلس میں علماء حکماء،شعراء جمع ہوا کرتے تھے۔وہ خود بھی شعر و شاعری کا ذوق رکھتے تھے۔ایک دفعہ فرخ سیر بادشاہ کے سامنے آئینہ تھا اور وہ بار بار آئینہ میں اپنا چہرہ دیکھتے تھے۔نواب خان دوران خان نے فی البدیہ ایک غزل کہی جس کا مطلع ہے۔سحر خورشید لرزاں برسہ کوئے تو می آید دل آئینه را نازم که بر روئے تو می آید الغرض اس طرح امیر الامراء صمصام الدولہ نواب خان دوران بہادر میر بخشی منصور جنگ ایک لمبی مدت تک اپنی حکومت ، اپنی صولت و جاہ اپنی شوکت و طاقت و حکومت کا چار دانگ عالم میں دُہل بجوا کر ۱۱۵۰ ہجری را ہے ملک بقا ہوئے۔دہلی میں اُن کی یادگا ایک شاندار مسجد ہے۔اُسی کے ایک پہلو میں اُن کا مرقد بنا ہوا ہے۔رہے نام اللہ کا۔