سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 109
109 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ ڑے ہوئے اور کہا کہ: صاحب اب کونسی بات باقی ہے جس کا انتظار کیا جائے“ اُسی وقت فوج لے کر لڑنے کو روانہ ہوا۔نواب خان دوران نے اس واقعہ کی اطلاع بادشاہ کو دی۔انہوں نے آصف جاہ اوّل کو خبر کی۔آصف جاہ نے کہا پہر دن باقی ہے۔اس لئے برہان الملک کو روکنا چاہئے کیونکہ اُن کا لشکر منزلیں مارتا ہوا آیا ہے۔اس وقت بے موقع جرات کرنی مناسب نہیں۔کل تو پخانہ سامنے رکھ کر اور سب لشکر کو ترتیب دے کر بندوبست سے لڑیں۔بادشاہ نے یہی بات خان دوران کو کہلا بھیجی۔خان دوران سنتے ہی بگڑ کر اُٹھ بیٹھا اور کہا کہ بڑے حیف کی بات ہے۔ایسا جوانمر دسردار آقا کے نمک پر نثار ہونے جائے اور ہم پہلو میں بیٹھے اس کے مرنے کا تماشا دیکھا کریں۔اُسی وقت ہاتھی پر سوار ہو کر فوج لے کر روانہ ہوا۔نادر خان کی فوج سے جنگ ہوئی۔خان دوران زخمی ہو گئے۔تھوڑی ہی دیر میں تمام ڈیرے خیمے لٹ گئے۔بادشاہ کو خبر ہوئی تو بادشاہ کی طرف سے خواجہ سراء آئے اور آصف جاہ وغیرہ امراء عیادت کو آئے۔خان دوران خان نے آنکھ کھولی اور کہا: ”ہم نے تو اپنا کام کر لیا۔اب تم جانو اور تمہارا کام۔مگر کہتے ہیں کہ بادشاہ کو نادر کے پاس اور نادر کو شہر میں نہ لے جانا۔۱۶ سیر المتاخرین کے مصنف نے اس سارے واقعہ پر اس قد را ضافہ کیا ہے کہ اُس کا بھائی مظفر خان اور اُس کا بڑا لڑکا بھی اس جنگ میں تھا۔ملاحظہ ہو صفحہ ۱۰۷ جلد ۲ نادر شاہ مطبوعہ لنڈن میں خانِ دوران خان کے دولڑکوں کا ذکر ہے۔تاریخ اسلام مصنفہ ذاکر حسین جعفر مطبوعہ ۱۳۴۴ ہجری نے صفحہ ۱۴۹ میں لکھا ہے کہ نادر شاہ سے صمصام الدولہ کی فوجوں کی جنگ ۳۹ ا ء میں کرنال پر ہوئی۔یہ مختصر سے واقعات اُن لمبے واقعات سے لئے گئے ہیں تا کہ یہ بتلایا جا سکے کہ نواب خانِ دوران اپنے زمانہ میں کس پایہ کے آدمی تھے۔وہ فوج کے افسر اعلیٰ تھے۔وہ خزانہ کے افسر اعلیٰ تھے۔ان کا سارا خاندان نانا، بھائی، بیٹے وغیرہ فوج میں سر بر آوردہ عہدوں پر فائز تھے۔وہ ہر وقت حکومت وقت کے لئے فدا کارانہ جذبہ رکھتے تھے۔ان لوگوں نے اپنی جان کو ہتھیلی پر رکھ کر سلطنت کی مضبوطی کی کوشش کی۔اُن کے دروازوں پر ہاتھی جھومتے تھے۔سونے چاندی کی نہریں اُن کے محلات میں بہا کرتی تھیں۔نوکر چاکر ، خدم حشم سب کچھ موجود تھا