سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 106
106 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ خان دوران خان اغلباً بہادر شاہ کے زمانہ میں فوج میں بھرتی ہوئے تھے۔اُن کے ابتدائی مناصب کا علم نہیں۔جب فرخ سیر جہاندار شاہ سے لڑنے آیا۔اُس وقت خانِ دوران کا منصب پنج ہزاری تھا۔معز الدین جہاندار شاہ نے اُس وقت خانِ دوران کا منصب بڑھا کر ہفت ہزاری بنا دیا نیز جب تک وہ پنج ہزاری تھے۔اُس وقت تک وہ اپنے اصلی نام ہی سے یاد کئے جاتے تھے۔مگر ہفت ہزاری ہونے کے ساتھ ہی اُن کو خان دوران کا خطاب دیا گیا۔میرا خیال یہ ہے کہ چونکہ اُن کے نانا جو ابھی زندہ تھے اور ان کو خانِ جہان کا خطاب تھا اس لئے اسی مناسبت سے اُن کو خانِ دوران کا خطاب دیا گیا اور اپنے شاہزادے کا بھی اُن کو مربی تجویز کیا اور تمام فوج اور توپ خانے کا اختیار دیا گیا۔کے اگر چه خان جہان مر گیا۔مگر خان دوران کا ڈنکہ بدستور بختا ر ہا۔خان دوران خان متعد دلڑائیوں میں لڑتا رہا۔مگر جہاندار شاہ کو شکست ہوئی اور اس شکست کا اصل سبب بدنظمی اور افسران کی بد اعتمادی تھی۔اس کے نتیجہ میں فرخ سیر بادشاہ ہو گیا۔فرخ سیر نے اپنے وفاداروں کو نئے منصب اور خطابات دیئے۔چنانچہ سید عبداللہ خان قطب الملک یار وفادار ظفر جنگ کا خطاب ملا۔ہفت ہزاری ہفت ہزار سوار، دوا سپہ سہ اسپہ کا منصب اور وزارت عظمیٰ دی گئی۔سید حسین علی خان کو امیر الامراء بہادر فیروز جنگ ہفت ہزاری ہفت ہزار سوار کا منصب اور میر بخشی محمد امین خان کو اعتمادالد ولہ کا خطاب ہزاری ہزار کا منصب نظام الملک فتح جنگ کا خطاب اور دکن کا صوبہ دار مقرر کیا۔قاضی عبد اللہ تو رانی کو خانخاناں میر حملہ کا خطاب، ہفت ہزاری اور ہفت ہزار سوار کا منصب ملا۔اس سلسلہ میں جہاندار شاہ کے مقربین نے بھی کسی نہ کسی طرح عذر معذرت کر کے رسوخ حاصل کیا۔چنانچہ نواب خان دوران کو صمصام الدولہ خانِ دوران کا خطاب عطا ہوا اور منصب ہفت ہزارشش ہزار سوار عطا ہوا۔2 فرخ سیر کے زمانے میں بھی صمصام الدولہ نواب خان دوران خان کا ستارہ عروج پر چڑھتا چلا