سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 95
95 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ خواجہ سید نا صر جان خواجہ سید ناصر جان جو آپ کے صاحبزادے تھے کی شادی خواجہ میر درد صاحب کی پوتی امانی بیگم صاحبہ سے ہوئی تھی۔میر ناصر جان بھی شاعر تھے اور اپنا تخلص محزون کرتے تھے۔آپ کوفن ریاضی میں بڑا کمال حاصل تھا۔یہ علم آپ نے نواب فرید الدین احمد خان صاحب ہمدانی دہلوی سے حاصل کیا تھا۔آپ اسی فن ریاضی کی وجہ سے سرکار کمپنی کے بعض حکام کی نظروں میں بہت معزز تھے اور انہوں نے آپ کو گڑینی میں منصف مقرر کرا دیا تھا۔جہاں وہ ۱۳ جنوری ۱۸۳۶ء مطابق ۲ رمضان ۱۲۴۹ھ میں فوت ہو گئے۔ان کا خیال تھا کہ میں اپنے بزرگوں کی سب کتابیں خود شائع کروں گا چنانچہ آپ نے اس غرض کے لئے ایک مطبع بھی خرید لیا تھا مگر موت نے مہلت نہ دی۔ان کی شاعری کے نمونہ کے لئے ایک شعر یہاں درج کرنا ضروری خیال کرتا ہوں۔نہ تو نامہ ہی نہ پیغام زبانی آیا حیف محزون تجھے یارانِ وطن بھول گئے۔آپ کی لاش وہاں سے دہلی لائی گئی اور خاندانی قبرستان میں دفن کی گئی۔صاحبزادی بی نصیر و بیگم صاحبه صاحبزادی بی نصیرہ بیگم صاحبہ کی شادی نواب خان دوران خان صاحب کے پوتے میر ہاشم علی صاحب کے ساتھ ہوئی جو ایک صحیح النسب سید تھے۔خواجہ میر ناصر امیر صاحب ان کے بطن سے ایک صاحبزادے خواجہ ناصر امیر صاحب پیدا ہوئے اور ایک دختر فرحت النساء بیگم پیدا ہوئیں۔میر ناصر امیر صاحب کی شادی میر بھکاری صاحب کی دختر بلند اختر سے ہوئی۔جن کا نام سعیدہ بیگم صاحبہ تھا۔ان کے بطن سے ایک صاحبزادہ پیدا ہوئے۔جن کا نام سید ناصر وزیر تھا۔خواجہ ناصر امیر صاحب نے ایک اور شادی بھی کی تھی جو میر شفیع احمد صاحب ساکن فراشخانہ کی دختر بلند