سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 92 of 677

سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 92

92 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ کی دو صاحبزادیاں تھیں۔ایک برائی بیگم صاحبہ تھیں اور دوسری زینت النساء بیگم صاحبہ تھیں۔خواجہ میر در دصاحب کی وفات کے بعد ان کے بھائی خواجہ ظہور الناصر سید میراثر صاحب ان کے خلیفہ اور جانشین ہوئے اور صفر ۱۲۰۹ ہجری میں وفات پائی۔ان کی ایک ہی دختر تھیں جس کا نام بیگما جان تھا۔جس کی شادی نواب سید اسد اللہ خان بن نواب سید جعفر علی خان صاحب سے ہوئی تھی۔ان کی وفات کے بعد خواجہ سید ضیاء الناصر المعروف به سیّد صاحب میر متخلص بہ الم آپ کے خلیفہ ہوئے۔آپ کی وفات ۲۱ جمادی الآخر ۱۲۱۵ ہجری کو ہوئی۔خواجہ میر در دصاحب کے پائیں میں دفن ہوئے۔ان کی اولاد ان کے ایک صاحبزادے میر محمد بخش نام اور ایک صاحبزادی بی امانی بیگم تھیں۔میر محمد بخش میر محمد بخش صاحب جو حضرت خواجہ میر درد کے پوتے تھے۔بڑا پنچ نامی جگہ میں کمپنی کی حکومت کی طرف سے حاکم تھے۔ان کے پاس ایک نوکر تھا جس نے چوری کی اور گرفتار ہوا اسے خیال تھا کہ میرا مالک میری مدد کرے گا مگر آپ نے فرمایا کہ میں چور کا حامی نہیں ہوں اسے سزا ہوگئی وہ قید سے جب آزاد ہوا اس نے آپ کو آپ ہی کی تلوار سے سوتے میں قتل کر دیا۔وفات کے وقت آپ کی عمر کل تمہیں برس کی تھی۔ان کی لاش دیلی لائی گی اور خاندانی قبرستان میں دفن ہوئی۔امانی بیگم صاحبہ امانی بیگم صاحبہ خواجہ صاحب میر کی بیٹی تھیں مگر ان کی والدہ میر محمد بخش صاحب کی والدہ نہ تھیں بلکہ بی عزت النساء صاحبہ جو اُم سلمہ کر کے مشہور تھیں اور خواجہ صاحب میر صاحب کی دوسری بیوی تھیں کے بطن سے تھیں۔اٹھوانی پیدا ہوئی تھیں مگر لمبی عمر پائی۔۱۲۰۳ ہجری کو پیدا ہوئیں اور ۱۲۷۲ ہجری میں ۱۱ ربیع الاول کو وفات پائی۔