سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 93
93 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ خواجہ محمد نصیر صاحب خواجہ میر درد کے بعد ان کے بھائی صاحب ان کے جانشین ہوئے پھر خواجہ میر درد کے بیٹے جانشین ہوئے۔خواجہ میر درد کے پوتے میر محمد بخش صاحب اپنے باپ کی زندگی میں فوت ہو گئے تھے اس کے بعد ان کے ہاں اولاد نرینہ نہ ہوئی اور نہ میر محمد بخش صاحب ہی کی کوئی اولاد تھی۔اس لئے خلافت کا مسئلہ کچھ الجھن میں پڑ گیا مگر اس کا حل یہ پیدا ہوا کہ خلافت خواجہ میر درد صاحب کی لڑکی کی اولاد میں منتقل کی جائے چنانچہ خواجہ صاحب کی دولڑکیاں تھیں بڑی کا نام براتی بیگم تھا جن کی شادی مولوی عبدالحئی صاحب سے ہوئی تھی جو خواجہ میر درد صاحب کے چچازاد بھائی تھے۔مولوی عبدالحی صاحب کلکتہ میں سرکار کمپنی کے مجلس واضع قوانین کے رکن تھے۔بڑی آمدنی تھی۔آپ نے بنارس کے قریب ایک تعلقہ بھی خریدا تھا۔ناصری گنج ایک قصبہ خواجہ محمد ناصر صاحب کی یادگار کے طور پر آباد کیا تھا جس کا نام ناصری گنج رکھا۔جب تک وہ زندہ رہے اپنی بیوی کو ایک ہزار روپیہ ماہانہ بھیجا کرتے تھے وہ ایک ہی دن میں اسے بانٹ کر ختم کر دیتیں۔چاندی کے روپے تقسیم کرتے کرتے ہاتھ کالے ہو جاتے تو آپ فرماتیں: خدا اس سفید ڈائن کی محبت کسی مسلمان کو نہ دے۔جس طرح اس کے چھونے سے ہاتھ کالے ہو جاتے ہیں۔اسی طرح اس کی محبت سے آدمی کا دل سیاہ ہو جاتا ہے۔“ مولوی عبدالحی صاحب لا ولد فوت ہو گئے۔ناصری گنج کا علاقہ از روئے وصیت اپنے ورثاء میں تقسیم کر گئے۔جس میں سے اب تک ایک گاؤں کا بڑا حصہ حضرت میر ناصر نواب صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اولاد کے پاس موجود ہے اور کچھ تھوڑ اسا پک بھی گیا ہے۔زینت النساء بیگم زینت النساء بیگم دوسری صاحبزادی کی شادی میر کلو صاحب سے ہوئی تھی۔جو میر نعمان بدخشانی