سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 88
88 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ سے تھا اور اس خصوص میں آپ کا مقام اس قدر بلند ہوا کہ آپ کامل طور پر بروز محمد ہو گئے اور خدا سے علم پا کر آپ نے فرمایا۔”من فرّق بيني و بين المصطفى فما عرفنى وما ارى“ یعنی اور جو شخص مجھ میں اور مصطفیٰ میں تفریق کرتا ہے اس نے مجھے نہیں دیکھا ہے اور نہیں پہچانا۔۲۱ آپ تحریر فرماتے ہیں: آپ فنافی اللہ کے مقام پر میں نے اپنے ایک کشف میں دیکھا کہ میں خود خدا ہوں اور یقین کیا کہ وہی ہوں اور میرا اپنا کوئی ارادہ اور کوئی خیال اور کوئی عمل نہیں رہا اور میں ایک سوراخ دار برتن کی طرح ہو گیا ہوں یا اس شے کی طرح جسے کسی دوسری شے نے اپنی بغل میں دبا لیا ہوا اور اسے اپنے اندر بالکل مخفی کر لیا ہو۔یہاں تک کہ اس کا کوئی نام ونشان باقی نہ رہ گیا ہو۔اس اثناء میں میں نے دیکھا کہ اللہ تعالیٰ کی روح مجھ پر محیط ہوگئی اور میرے جسم پر مستولی ہو کر اپنے وجود میں مجھے پنہاں کر لیا۔یہاں تک میرا کوئی ذرہ بھی باقی نہ رہا۔اور میں نے اپنے جسم کو دیکھا تو میرے اعضاء اس کے اعضاء اور میری آنکھ اس کی آنکھ اور میرے کان اس کے کان ، اور میری زبان اس کی زبان بن گئی تھی۔میرے رب نے مجھے پکڑا اور ایسا پکڑا۔کہ میں بالکل اس میں محو ہو گیا اور میں نے دیکھا کہ اس کی قدرت اور قوت مجھ میں جوش مارتی ہے۔اور اس کی الوہیت مجھ میں موجزن ہے۔حضرت عزت کے خیمے میرے دل کے چاروں طرف لگائے گئے۔اور سلطان جبروت نے میرے نفس کو پیس ڈالا۔سو نہ تو میں ہی رہا اور نہ میری کوئی تمنا ہی باقی رہی۔میری اپنی عمارت گر گئی اور رب العالمین کی عمارت نظر آنے لگی اور الوہیت بڑے زور کے ساتھ مجھ پر غالب ہوئی اور میں سر کے بالوں سے ناخن پا تک اس کی طرف کھینچا گیا۔پھر میں ہمہ مغز ہو گیا جس میں کوئی پوست نہ تھا اور ایسا تیل بن گیا جس میں کوئی میل نہیں تھی اور مجھ میں اور میرے نفس میں جدائی ڈال دی گئی۔پس میں اُس شے کی طرح ہو گیا جو نظر نہیں آتی۔یا اس قطرہ کی طرح جو دریا میں جا ملے اور دریا اس کو اپنی چادر کے نیچے چھپالے۔اس حالت میں میں نہیں جانتا تھا کہ اس سے پہلے میں کیا تھا اور