سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 599 of 677

سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 599

599 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ پھر یہ عجیب بات ہے کہ سلسلہ کے دور ترقی اور عہد فضل میں بھی ایک عظیم الشان بشارت میں خدا تعالیٰ نے ان کو شریک فرمایا اس سے میری مراد یہ ہے کہ حضرت امیر المومنین خلیفہ الثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کو جور و یا سلسلہ میں آنے والے انقلاب کے متعلق ہوا۔اس میں بھی حضرت میر محمد اسحق صاحب کا دخل ہے اور اللہ تعالیٰ نے ان کے ہاتھ سے ایک ایسا فعل کرا دیا جو وَامْتَا زُوا الْيَوْمَ أَيُّهَا الْمُجْرِمُونَ کا دن تھا۔اس سے میری مراد وہ واقعہ ہے جو حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کی زندگی میں ہوا۔اور جس میں خلیفہ اور انجمن کی پوزیشن کا سوال پیدا ہوا تھا۔انہیں ایام میں حضرت امیر المومنین کو ایک رویا ہوئی۔میں مناسب سمجھتا ہوں کہ واقعات کو سمجھنے کے لئے اس کی کسی قدر تفصیل آئینہ صداقت سے کر دوں۔جب حضرت مسیح موعود کی وفات پر آپ کو خلیفہ تجویز کیا گیا تو مولوی صاحب کو بہت بُرا معلوم ہوا اور آپ نے انکار بھی کیا اور پیش کیا کہ خلافت کا ثبوت کہاں سے ملتا ہے۔مگر جماعت کی عام رائے کو دیکھ کر اور اس وقت کی بے سروسامانی کو دیکھ کر دب گئے اور بیعت کر لی۔بلکہ اس اعلان پر بھی دستخط کر دیئے جس میں جماعت کو اطلاع دی گئی تھی کہ حضرت مولوی نورالدین صاحب الوصیة کے مطابق خلیفہ مقرر ہوئے ہیں۔مگر ظاہری بیعت کے باوجود دل نے بیعت کا اقرار نہیں کیا اور اپنے ہم خیالوں اور دوستوں کی مجلس میں اس قسم کے تذکرہ شروع کر دیئے گئے جن میں خلافت کا انکارہوتا تھا اور اس طرح ایک جماعت اپنے ہم خیالوں کی بنالی۔خواجہ کمال الدین سب سے بہتر شکار تھا جو مولوی محمد علی صاحب کو ملا ( کیونکہ وہ خود اس فکر میں تھے کہ مولوی محمد علی صاحب کو اپنا ہم خیال بنائیں اور اس کی سب سے بہتر صورت یہی تھی کہ وہ خود مولوی محمد علی صاحب کے خاص خیالات میں ان کے شریک ہو جاویں )۔چنانچہ حضرت مسیح موعود کی وفات کو ابھی پندرہ دن بھی نہ گزرے تھے کہ خواجہ صاحب نے مولوی محمد علی صاحب کی موجودگی میں مجھ سے سوال کیا کہ میاں صاحب آپ کا خلیفہ کے اختیارات کے متعلق کیا خیال ہے۔میں نے کہا کہ اختیارات کے فیصلہ کا وہ وقت تھا جبکہ ابھی بیعت نہ ہوئی تھی۔جبکہ حضرت خلیفہ اول نے صاف صاف کہہ دیا کہ بیعت کے بعد مولوی محمد علی صاحب