سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 598 of 677

سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 598

598 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ ہوا۔وہ ان الفاظ میں تذکرہ میں درج ہے: خواب میں دیکھا کہ میر ناصر نواب صاحب اپنے ہاتھ پر ایک درخت رکھ کر لائے ہیں۔جو پھل دار ہے اور جب مجھ کو دیا تو وہ ایک بڑا درخت ہو گیا جو بیدا نہ توت کے درخت کے مشابہ تھا اور نہایت سبز تھا اور پھلوں اور پھولوں سے بھرا ہوا تھا اور پھل اس کے نہایت شیریں تھے۔اور عجیب تریہ کہ پھول بھی شیریں تھے مگر معمولی درختوں میں سے نہیں تھا۔ایک ایسا درخت تھا کہ کبھی دنیا میں دیکھا نہیں گیا میں اس درخت کے پھل اور پھول کھا رہا تھا کہ آنکھ کھل گئی۔‘۵ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جو اجتہاد فر ما یا وہ بھی واقعاتی رنگ میں صحیح ثابت ہوا اور دوسرے رنگ میں اس کا ظہور حضرت اُم المؤمنین کے وجود مبارک کے ذریعہ بشکل پہل حضرت امیر المومنین کے وجود میں ہوا اور حضرت میر محمد اسحق بھی اس میں شامل ہیں۔(۴) اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو ایک الہام میں حضرت میر محمد اسحق صاحب پر ہونے والے امراض کے جانستاں حملوں کی خبر دی اگر چہ اس وقت عام قاعدہ کے مطابق یہ نہیں کہا جا سکتا تھا کہ یہ الہام کس کے متعلق ہے مگر واقعات نے ثابت کر دیا کہ یہ الہام میر محمد الحق صاحب ہی کے متعلق تھا اور وہ الہام یہ ہے : ” خدا اس کو پنج بار ہلاکت سے بچائے گا۔1 حضرت میر صاحب کی زندگی میں خطرناک حملے جو بیماری کے ہوئے وہ چھ تھے اور چھٹا حملہ بالآخر جانستان ثابت ہوا۔حضرت میر صاحب مرحوم اپنی شدید علالت کے حملوں کا شمار رکھتے تھے ان کے مخلص اور خاص احباب اور اہل بیت جانتے ہیں کہ وہ اس الہام کو اپنی نسبت یقین کرتے تھے اور فرماتے کہ چھٹا حملہ جانستان ہو گا۔چنانچہ ایسے حملے جو موت کا پیغام ہو سکتے تھے۔ان پر پانچ مرتبہ ہوئے اور خدا تعالیٰ نے ان کو اپنے وعدہ کے موافق نجات دی لیکن یہ آخری حملہ جو چھٹا تھا جب ہوا تو جان لیوا ثابت ہوا۔وَكَانَ امَر أَمَقْضِيا۔یہ الہام ۱۹۰۶ ء کا ہے اور اس کے بعد ۳۸ سال تک آپ زندہ رہے اور اس عرصہ میں پانچ شدید حملے ہو کر آپ شفایاب ہوئے اور آخری میں واصل بحق ہو گئے۔یہ خصوصیت اور امتیاز خاص رنگ رکھتا ہے جس سے میر صاحب کے مقام عند اللہ کا پتہ لگتا ہے اور