سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 593 of 677

سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 593

593 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ زندہ رکھیں گی اور آنے والی نسلیں ان پر فخر کریں گی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بعض اوقات کسی مخلص کے وفات پا جانے پر فرمایا کرتے تھے کہ مجھے ان کے لئے دعائے صحت کرنے کا موقعہ نہ ملا اور اس سے آپ کا مقصد یہ ہوتا تھا کہ اگر دعا اپنے پورے لوازم سے کی جاوے تو وہ قبولیت کا درجہ حاصل کرتی ہے اور جہاں قضائے مبرم ہو وہاں اس کا موقعہ پورے طور پر نہیں ملتا۔حضرت میر صاحب کی اس آخری علالت میں بھی یہی ہوا کہ علالت کا حملہ تیر قضا ہی تو تھا نہ اس کا اعلان ہو سکا اور نہ جماعت کو اپنے ایک مخلص اور محسن خادم کے لئے دعاؤں کا موقعہ ملا۔عجیب بات یہ ہے کہ حضرت میر صاحب پر یہ حملہ عین اس وقت ہوا جب کہ وہ سلسلہ کی خدمت میں مصروف تھے۔یوں تو ان کی زندگی کا ہر لمحہ خدمت سلسلہ میں گزرتا تھا مگر اس روز با وجود طبیعت کے کسی قدر ناساز ہونے کے بھی صدر انجمن احمدیہ کے جلسہ میں شریک تھے۔حضرت میر صاحب کی وفات کو جماعت نے کس طرح محسوس کیا اس کا کسی قدر اندازہ ان اقتباسات سے ہو گا جو بعض خطوط اور مختلف احباب کے تاثرات کا کیا گیا ہے۔قبل اس کے کہ میں اسے درج کروں میر صاحب کی آخری علالت کا مختصر سا تذکرہ کرنا ضروری ہے۔معزز ہمعصر الفضل نے ان کی وفات پر جو لیڈر شائع کیا اس میں ان کی وفات کے آخری حالات بھی درج ہیں اس لئے انہیں کو درج کر دیا جاتا ہے۔احمدیت کا ایک درخشندہ ستارہ غروب ہو گیا حضرت میر محمد الحق صاحب رحلت فرما گئے إِنَّا لِلَّهِ وَ إِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ قادیان ۱۷ مارچ، سلسلہ عالیہ احمدیہ کا وہ نہایت ہی قیمتی اور گراں مایہ وجود نہ صرف حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مقدس خاندان سے نہایت ہی قریبی تعلق رکھنے کی وجہ سے بلکہ اپنی خاندانی اور ذاتی اعلیٰ صفات کے لحاظ سے ایک خاص وجود تھا جو دینی علوم و معارف کا بحر بیکراں تھا جو احمد یہ اخلاق اور تہذیب کا اعلیٰ نمونہ تھا۔جو ہر مصیبت زدہ کا مددگار اور ہر محتاج کا دنگیر تھا جو یتیموں کا ملجا اور بیواؤں کا ماوا تھا۔جس کا دستِ سخا نہایت وسیع تھا جس نے ساری عمر متوکلانہ زندگی بسر کی۔جس کی