سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 587
587 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ حضرت اُم المؤمنین کے قلب میں وہ قوت اور معرفت پیدا کر دی تھی کہ ہر ابتلا کے وقت نہ صرف آپ صبر اور رضا بالقضا کے مقام پر کھڑی رہیں بلکہ خدا تعالیٰ کے قرب کے مقام میں قدم آگے بڑھایا۔میں حضرت اُم المؤمنین کے اس خُلق میں چند واقعات کا ذکر کرتا ہوں۔حضرت صاحبزادی عصمت کی وفات پر نمونہ صبر حضرت اُم المؤمنین کی سب سے پہلی اولا د صا حبزادی عصمت تھی یہ وہ لڑکی تھی جس کی پیدائش پر دشمنوں نے بہت شور مچایا کہ لڑکے کی بشارت تھی لڑکی پیدا ہوئی۔اس کی پیدائش اور وفات دونوں ابتلا تھے۔فطرتی طور پر پہلی اولا داورلڑکی مستورات کو بہت عزیز ہوتی ہے۔حضرت اُم المؤمنین صاحبزادی عصمت کی پیدائش پر اس سارے شور وشر سے واقف و آگاہ تھیں جو مخالفوں کی طرف سے ہو رہا تھا مگر وہ خدا تعالیٰ کے وعدوں پر ایمان رکھتی تھیں اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو صادق یقین کرتی تھیں اس شماتت و مخالفت میں بھی حضرت سیدہ کو کبھی گھبراہٹ نہ ہوئی آخر کود ہیا نہ میں صاحبزادی عصمت ہیضہ سے بیمار ہو کر فوت ہوگئیں۔اس موقعہ پر کوئی جزع فزع نہیں اور اس کے بعد کوئی ذکر ہی نہیں کہ گویا کچھ ہوا ہی نہیں۔خدا تعالیٰ کی قضاء وقدر سے مصالحت و مسالمت کا یہ بے نظیر نمونہ تھا۔صاحبزادی عصمت کی وفات کے بعد بشیر اول پیدا ہوا۔وہ خدا تعالیٰ کی بشارت اور وعدہ کے موافق پیدا ہوا۔اس کی پیدائش اور وفات پر بھی ایک طوفان مخالفت پیدا ہوا۔آخر وہ خدا تعالیٰ ہی کی وحی کے موافق فوت ہو گیا اور اس کی وفات پر پھر ایک شور بلند ہوا اور یہ ایسا رنگ تھا کہ اگر کوئی دوسرا شخص ہوتا اور خدا تعالیٰ کی تائید اور نصرت اس کے ساتھ نہ ہوتی تو خودکشی کر لیتا مگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اور آپ کی رفیقہ مطہرہ نے اپنے عمل سے دنیا کو دکھا دیا کہ ان کی زندگی کا ہر پہلو ان کو جنت ہی میں رکھتا ہے اور خدا تعالیٰ کے قرب کے مقام کی طرف لے جاتا ہے دنیا کے مصائب اور ابتلاء ان کیلئے خدا کی چہرہ نمائی کا رنگ لے کر آتے ہیں۔حضرت اُم المؤمنین کے لئے یہ ابتلا بڑا سخت تھا۔پہلا بچہ فوت ہو چکا تھا۔یہ دوسرا بچہ جس کے متعلق خدا تعالیٰ کی بشارتوں میں عظیم الشان مقام بتایا گیا تھا خدا کی مشیت کے ماتحت فوت ہوتا ہے۔بشیر اول کی وفات والدین کے لئے بیٹے کے داغ کی حیثیت سے ہی بڑا صدمہ تھا۔بلکہ سب سے بڑا