سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 541 of 677

سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 541

541 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ بعض اعتراضوں کا جواب عزیز مکرم محمود احمد عرفانی نے دوسری جلد کے لئے ایک باب اس غرض کے لئے بھی مخصوص کیا تھا کہ منکرین خلافت نے حضرت اُم المؤمنین اور آپ کی ذریت طیبہ کے متعلق جو اعتراضات کئے ہیں ان کا جواب بھی دے دیا جاوے۔ذریت طیبہ اور مصلح موعود کے متعلق جو شکوک اور شبہات ناشکر گزار لوگوں نے پیش کئے ہیں وہ اپنی جگہ ہر چند کوئی اہمیت نہیں رکھتے اس لئے کہ خدا تعالیٰ کی تائید اور نصرت نے اپنے وعدہ کے موافق آیات بینات کے ساتھ ان کا جواب دے دیا ہے اور آئے دن اخبارات میں ہر نئے اعتراض کا جواب شائع ہوتا ہے۔تاہم مستقل طور پر ہر ایک قسم کے اعتراضات کا جواب رسالہ مصلح موعود میں جوزیر تالیف ہے دیا جاوے گا کہ وہی مقام اس کے لئے موزوں ہے اور دوسری جگہ اس کتاب میں بھی کچھ صراحت کر دی گئی ہے۔با ایں مرحوم کی خواہش یا تجویز کے موافق اس جگہ بھی کچھ اور صراحت کر دی جاتی ہے۔منکرین خلافت کا سارا زور حضرت امیر المومنین مصلح موعود کی مخالفت میں صرف ہو رہا ہے اور وہ آپ کے اعلیٰ سے اعلیٰ مفید اور موثر کام کو بھی قابلِ اعتراض قرار دینا چاہتے ہیں۔بمصداق ہنر چشم عداوت بزرگتر عيب است اور عجیب بات یہ ہے کہ پھر اسی تحریک، تجویز اور پروگرام کولیکر خود عمل کرتے ہیں اور شکر گزار ہونے کی بجائے اپنے عمل سے انتہائی ناشکری کا مظاہرہ کرتے ہیں۔بہر حال ان کے سارے تیروں کا ہدف حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا موعو دلخت جگر ہے۔کیا یہ عجیب بات نہیں کہ جس وجود کو ایک زمانہ پیشتر جبکہ وہ عنفوان شباب میں تھا۔جبکہ انسان مختلف قسم کی امنگوں اور جذبات کے سیلاب میں جا رہا ہوتا ہے وہ اسے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی صداقت کا ایک نشان قرار دیتے تھے اور آج جبکہ خود اس کے ہاتھ پر نشانات ظاہر ہورہے ہیں۔وہ تقویٰ اور دیانت کے تمام اصولوں کو ترک کر کے اس پر حملے کرتے ہیں آہ! صد آہ! اس لئے قبل اس کے کہ میں منکرین خلافت کے اس مایہ ناز اعتراض کا جواب دوں کہ وہ سیدنا امیر المومنین کو پسر نوح کہہ کر کرتے ہیں۔میں ان کے اکابر کے اس عقیدہ کو پیش کر دینا چاہتا ہوں جو اس سے پہلے ان کا تھا۔