سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 418 of 677

سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 418

418 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ بات یہ ہے کہ اسلام نے تو اس چیز کومنع کیا ہے جو ہندو بت بنا کر بڑی عزت سے گھروں میں رکھتے اور ان کو خدا کی صفات سے موصوف قرار دے کر ان کی عبادت کرتے اور ان سے مُرادیں مانگتے ہیں۔اس لئے رسول اللہ ﷺ نے اس بت پرستی کو دور کرنے کے لئے بت بنانے سے منع فرمایا۔عرب لوگ جاہلیت کے زمانہ میں بت پرست تھے اس کو دور کرنے کے لئے آپ نے بتوں کی مذمت فرمائی اور ان کو منع کیا۔اس قسم کے کھلونے کی ممانعت نہیں۔حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا گڑیاں کھیلا کرتی تھیں۔اس قسم کی یا کوئی بھی چیز ہو اس میں اللہ تعالیٰ کی صفات کو قائم کر کے اس کی عبادت کرنا یہ بہت بڑا گناہ اور شرک ہے۔میں پہلے تو اپنے سوال کرنے سے گھبرائی کہ خلاف ادب نہ ہو مگر جب میں نے دیکھا کہ محبت سے اماں جان سمجھاتی ہیں تو میں سوالات کرتی گئی اور حضرت اماں جان محبت سے آسان طریق پر مجھے سمجھاتی رہیں۔تصاویر پھر میں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اور دوسرے احباب کی تصاویر دیکھیں تو میں نے اعتراض کیا کیونکہ سیٹھ صاحب نے مجھے بڑی سختی سے روکا تھا کہ کوئی تصویر نہیں لگانی چاہئے۔حتی کہ ہمارے خاندان کی بعض بڑی بڑی قیمتی تصاویر کو ضائع کر دیا تھا۔حضرت اماں جان نے فرمایا کہ: حضرت صاحب کی تصویر عبادت یا پرستش کے لئے نہیں بلکہ یہ تصویر تو اس لئے بنوائی گئی تھی کہ جو لوگ دور دراز ملکوں میں رہتے ہیں وہ اس طرح اپنے امام کے چہرہ اور حلیہ کو دیکھ لیں کہ جو رسول اللہ ﷺ کی پیشگوئی کے موافق ہے اور انگریز اور دوسرے مغربی لوگ تصاویر کو دیکھ کر اس کے اخلاق وغیرہ کا اندازہ کر لیتے ہیں۔یہ تصویر تو خود تبلیغ کا ایک ذریعہ ہے۔اگر صرف تصویر رکھنا منع ہو تو تم جیب میں روپیہ رکھتی ہو۔بچوں کی کتابوں میں تصویریں ہوتی ہیں۔میں نے اس سے تصویر کا مسئلہ بھی سمجھ لیا۔پراندہ منع نہیں ہے ایک مرتبہ میں نے دیکھا کہ بعض بیبیوں نے اپنے بالوں میں پراندے ڈال کر چوٹیوں کو بڑھایا