سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 407 of 677

سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 407

407 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ والسلام نے زندہ کیا اگر حضرت صاحب کے ساتھ ہو کر بھی ہم بھائی بھائی اور عور تیں بہنیں نہیں بنیں تو زردہ اور پلاؤ کی رکابیوں کا بنایا ہوا بہنا پا کہاں رہے گا۔تمہارا بھائی چارہ احمدی بن کر ہو گیا اس لئے اب اس رسم کی ضرورت نہیں۔میں نے دوسرے موقعہ پر شیخ صاحب کو دہرایا کہ میں نے تو اپنے میاں سے کہا تھا انہوں نے یہ جواب دیا۔حضرت ام المؤمنین نے سن کر فرمایا شیخ صاحب نے بہت ٹھیک کہا۔اصل بھائی چارہ یہی ہے۔خدا کی قدرت ہے کہ خدا تعالیٰ کے فضل سے ہم تو اس برادری میں شریک ہیں۔اور وہ زردہ پلاؤ کی بہنیں اور بھائی نکل گئے۔یہ عبرت کا مقام ہے۔میں نے ان روایات کو صرف بعض جگہ اپنے الفاظ میں لکھ دیا ہے لیکن اکثر حصہ خصوصاً ارشادات حضرت اُم المؤمنین ہی کے الفاظ میں یا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے یا حضرت امیر المومنین کے ہی ہیں۔(عرفانی) محتر مہ امۃ الرحمن کی روایات محتر مہ امۃ الرحمن مخدومی حضرت قاضی ضیاء الدین صاحب رضی اللہ عنہ قاضی کوٹی کی صاحبزادی ہیں ان کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی زندگی میں کئی سال تک خدمت کا موقعہ اور سعادت نصیب ہوئی۔ذیل میں ان کی رویات کو درج کیا جاتا ہے۔(عرفانی) محترمہ تحریر فرماتی ہیں : میرا باپ اللہ تعالیٰ کی ہزاروں رحمتیں اس پر ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا عاشق تھا۔ابتدائی ایام بڑے بڑے دُکھ اور مصیبتوں کے تھے۔حضرت والد صاحب بڑے صبر اور حوصلہ سے ہشاش بشاش ان مصیبتوں کو برداشت کرتے تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے انہیں فرمایا تھا۔قاضی صاحب آپ کو اس قدر مصیبتیں آئیں گی جیسے پہاڑ پر سے برف گرتی ہے ثابت قدم رہنا ان مصائب میں میں بھی اپنے والد بزرگوار کی شریک تھی۔جب میں قادیان آئی تو میں چاہتی تھی کہ خدمت کا موقعہ ملے۔میں نے دعا کی اور اللہ تعالیٰ نے چار پانچ سال تک خدمت کا موقعہ دیا اس عرصہ میں مجھ پر جو اثر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اور حضرت اُم المؤمنین کی سیرت کے متعلق ہوا اس کا ذکر