سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 380 of 677

سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 380

380 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ نوازش اور شفقت میں ہم نے ہمیشہ اضافہ دیکھا۔عزیز مکرم محمود احمد عرفانی کے خطوط سے میں ہر روز اس درد کا اندازہ کرتا ہوں جو حضرت ام المؤمنین کو اس کی علالت سے ہے آپ اس کے لئے دعاؤں میں مصروف ہیں اور اس کے لئے اپنے تبرک کو بھیجتی ہیں با قاعدہ روزانہ اس کی عیادت کے لئے مائی کا کو کو بھیجتی ہیں اور تسلی دیتی ہیں اور سچ تو یہ ہے کہ ان کا وجود ہی تو ہمارے لئے آیت رحمت ہے۔اللہ تعالیٰ اسے تا دیر سلامت رکھے۔آمین محمود! یہ مضمون بہت کچھ لکھوانا چاہتا ہے مگر میری یہ حالت ہے۔جہاں درشیشه ساعت کنم ریگ بیاباں را اللہ تعالیٰ تم کو توفیق دے خوب کھول کر لکھو۔یہ عبادت ہے یہ تمہاری اور ہماری نجات کا ذریعہ ہے۔آیات اللہ کی تلاوت بڑی نیکی ہے اور یہاں تو خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام كوفرمايا أذكر و نعمتی اللہ تعالیٰ تمہارے ساتھ ہو۔آه خاکسار عرفانی کبیر نزیل سکندر آباداا۔اکتوبر ۱۹۴۳ء آج جبکہ یہ مضمون شائع ہورہا ہے۔عزیز محترم محمود احمد عرفانی مقبرہ بہشتی میں آرام کر رہا ہے اور میں بارہ سومیل کے فاصلہ سے اس کے مزار پر آنسوں کے پھول چڑھا رہا ہوں۔وہ ۲۰ فروری ۱۹۴۴ء کی شب کو اپنے مولیٰ کے حضور بلایا گیا جبکہ میں اس کے بستر مرگ پر موجود تھا اس نے نہایت اطمینان کے ساتھ جان آفریں کو اپنی جان سپرد کی۔وہ ایک نقیب راہ کی طرح چلا گیا اور اس سال کو ہمارے لئے عام الحزن کا رنگ دے گیا۔اس لئے کہ اس کے بعد سیدہ اُم طاہر اور حضرت میر محمد اسحق کی وفات ہوئی خدا تعالیٰ ان سب کی تربتوں پر اپنی رحمت کے فرشتے نازل فرمائے آمین اور اس کے اس نا تمام مسودہ کو میں اس کے نوٹوں پر مرتب کر رہا ہوں۔وباللہ تو فیق۔ہم خدا کی تقدیر پر راضی ہیں۔کبھی کبھی دل سے ایک ہوک اٹھتی ہے اور اس عالم میں کہتا ہوں محمود ! خوب کتنا بہشت رسته ساتھ ہم کو بھی گر لئے ہوتے عرفانی کبیر