سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 348 of 677

سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 348

348 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ لطف و کرم کو بیان ہی کب کر سکتے ہیں۔حضرت میر صاحب نے اپنے بیان کے آخر میں ایک نہایت ہی قابل قدر اور آب زر سے لکھنے کے قابل بات لکھی ہے گویا اس ایک فقرہ میں دریا کوکوزہ میں بند کر دیا ہے۔میری آپا 1900ء میں میں ایف۔اے کا امتحان دے کر جب قادیان آ گیا تو آتے ہی پہلے تو نتیجہ کا انتظار رہا پھر اس کے بعد یہ کہ اب تعلیم کا رخ کس طرف پھیرا جاوے۔دوماہ کے بعد نتیجہ نکلا تو میں فسٹ ڈویژن میں پاس تھا۔اس کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور ان کے تتبع میں سب کا مشورہ یہی تھا کہ ڈاکٹری کی تعلیم شروع کی جاوے۔لیکن مشکل یہ آ کر پڑی کہ والد صاحب صرف دس روپے ماہوار خرچ دے سکتے تھے۔کیونکہ ان کی پنشن کل تمہیں روپے ماہوار تھی۔مزید براں تقریباً دوسو نہیں روپے سالانہ گاؤں کی آمد کا آتا تھا۔مشورہ تو ہو گیا مگر تعلیم کا خرچ ان کی مقدرت اور حیثیت سے بہت زیادہ تھا۔یعنی تمیں روپے ماہوار عام اخراجات کیلئے اور پچاس روپے سالانہ فیس کالج کی اور قریباً سات سو روپے کی کتابیں و آلات جو مختلف اوقات میں تعلیم کے دوران میں خریدے جاتے تھے۔آخر ایک دن والد صاحب نے گھر میں ذکر کر دیا کہ اس تعلیم کا خرچ میری طاقت سے بڑھ کر ہے۔میں گاؤں کا سارا روپیہ یعنی دس روپے ماہوار تو اسے دے سکتا ہوں مگر اس سے زیادہ کی طاقت نہیں رکھتا۔خیر بات گئی آئی ہوئی مگر اکتوبر کا مہینہ نزدیک آ رہا تھا۔جب میڈیکل کالج کا داخلہ ہونا تھا اور میرا اضطراب بڑھتا چلا جا رہا تھا کہ دیکھئے اب دفتر اگر امیز ریلوے کی کلر کی کرنی پڑتی ہے یا اور کوئی نوکری۔کہ اتنے میں ایک دن گھر کی کسی خادمہ نے میرے ہاتھ میں ایک ملفوف خط دیا۔افسوس وہ خط میرے پاس محفوظ نہیں رہا مگر اس کا خلاصہ مطلب یہ تھا کہ تم اپنی ڈاکٹری تعلیم کے لئے تر ڈ نہ کرو۔انشاء اللہ جو خرچ مزید درکار ہوگا وہ میں پورا کروں گی اور یہ مت خیال کرو کہ حضرت صاحب سے لیکر دوں گی بلکہ جو میرا ذاتی خرچ ہے اسی سے دیا کروں گی بلکہ انشاء اللہ حضرت صاحب کو بھی اس کی اطلاع نہ ہوگی۔آخر میں ”نصرت جہاں“ لکھا تھا۔اس کے بعد جب داخلہ کا وقت قریب آیا تو میں نے حضرت والد صاحب سے کہا کہ آپا صاحبہ کا اس مضمون کا خط مجھے ملا ہے اور اب داخلہ قریب ہے آپ تیاری کریں۔انہوں نے آپا صاحبہ سے ذکر کیا کہ فلاں تاریخ کو داخلہ ہے اور محمد اسمعیل لاہور ڈاکٹری میں داخل ہونے جا رہا ہے۔خیر میں لاہور