سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 284 of 677

سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 284

284 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ لئے ہجوم خلائق کی متحمل نہیں ہو سکتی تھیں ادھر ہر جلسے پر جانے والی خاتون مادر مہربان کی ملاقات سے محرومی کو نا قابل برداشت خیال کرتی ہے۔چنانچہ لجنہ اماء اللہ نے یہ فیصلہ کیا کہ حضرت اماں جان کی ملاقات کا ایک وقت مقرر کر دیا جائے اور احتیاط سے ملاقات کروا دی جائے تا عورتوں کا ہجوم نہ ہوا اور اماں جان کو تکلیف نہ ہو۔یہ ڈیوٹی مجھے دی گئی۔وقت مقررہ پر عورتوں کا تانتا لگ جاتا تھا اس لئے میری یہ کوشش ہوتی تھی کہ عورتیں صرف مصافحہ پر اکتفا کریں تا اماں جان کو تکلیف نہ ہومگر اماں جان کی شفقت و محبت کے کیا کہنے اماں جان با وجود ضعف و نقاہت کے ہر ملنے والی کی خیریت خود دریافت فرماتیں بلکہ اکثر ان کے متعلقین کی خیریت بھی دریافت فرماتیں۔مثلا تمہاری والدہ یا بہن یا بچے کیسے ہیں؟ اتنا عرصہ ہوا نہیں آئے۔کسی سے فرماتیں کہ تم گذشتہ سال نہیں آئیں یا دیر بعد آئی ہو۔ان اخلاق کریمانہ کو دیکھ کر میری حیرت کی کوئی حد نہ رہی۔ہزاروں عورتوں میں سے شاید ہی آپ نے کسی سے تعارف چاہا ہو۔ہر ایک کو آپ اچھی طرح جانتی پہچانتی تھیں۔اپنی تکلیف کے باوجود آپ کے ان اخلاق کا جو آپ نے ہر عورت سے ظاہر کئے مجھ پر ایک گہرا اثر ہوا۔نہ صرف یہ بلکہ آپ کا حافظہ بھی میرے لئے حیرت کا باعث بنا ہوا تھا۔(11) حضرت مولوی شیر علی صاحب قبلہ اپنی ایک روایت میں تحریر فرماتے ہیں کہ : (۱) ایک احمدی دوست جو کچھ عرصہ کیلئے اپنے روزگار کے سلسلہ میں ولایت گئے ہوئے تھے۔میں نے ان کی واپسی پر حضرت اُم المؤمنین کو اُن سے یہ فرماتے ہوئے سنا کہ کوئی نماز ایسی نہ تھی جس میں میں نے تمہارے لئے دعا نہ کی ہو۔اُس احمدی سے حضرت اُم المؤمنین کا کوئی رشتہ داری کا تعلق نہ تھا اور نہ وہ کوئی مال و دولت رکھتا تھا۔صرف اُس کے دل میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خاندان کے لئے اخلاص و محبت تھا۔جس کی وجہ سے آپ کے دل میں اس کے لئے اس قدر شفقت تھی کہ اس کی غیر حاضری میں تین ماہ کے لمبے عرصے تک بالالتزام ہر نماز میں اس کے لئے دعا فرماتی رہیں۔اس احمدی دوست کا نام شیخ احمد اللہ صاحب ہے۔