سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 222
222 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ برگزیدہ ساتھی کو برگزیدہ خدا سے سچا تعلق اور پورا اتفاق ہے۔۲۲ حضرت مولوی عبد الکریم صاحب جس نتیجہ پر پہنچے ہیں وہ ایک عارفانہ نتیجہ ہے اور حق یہی ہے کہ حضرت اُم المؤمنین کا یہ ایمان عارفوں کی معرفت میں بہت بڑا اضافہ کرنے کا باعث ہوا۔بڑے بڑے باخدا بزرگ دنیا میں ہوئے۔اُن کی بیویوں نے ان سے بڑی بڑی وفاداریاں کیں۔مگر اس امر کی مثال نہیں مل سکتی کہ کسی عورت نے یہ دعا کی ہو کہ اس کے پاکباز خاوند کے منہ کی بات پوری ہو اور بے شک اس کے گھر میں سوت آ جائے۔اس کی مثال تاریخ میں کوئی نہیں۔دوسری شادی میں اس جگہ یہ بحث نہیں کروں گا کہ دوسری شادی ضروری ہے یا نہیں ؟ لیکن یہ ایک مسلمہ بات ہے کہ اسلام نے اس چیز کو بعض حالات میں نہایت ضروری قرار دیا ہے۔قوموں کی زندگی کے لئے جن چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے ان میں سے ایک کثرت بھی ہوتی ہے اور کثرت دو طرح سے واقع ہوتی ہے۔اول : بذریعہ نسل۔دوم : بذریعہ اشاعت مذہب اسلام نے ان دونوں چیزوں پر زور دیا ہے۔جس طرح اشاعتِ مذہب ضروری ہے۔اسی طرح اکتار نسل بھی ضروری ہے۔ایسی صورت میں جو بچہ پیدا ہوتا ہے وہ دینی قومیت کا ایک سپاہی ہوتا ہے اور وہ شوکت اسلام کو قریب کرنے کا باعث ہوتا ہے۔اس لئے ایسے حالات میں عند الضرورت جولوگ زیادہ شادیاں کر کے تقویت دین کا باعث نہیں بننا چاہتے وہ قوم ، ملت اور مذہب کے دشمن گردانے جائیں گے۔پس کبھی ایک سے زیادہ شادیاں ایک قومی ہلی اور مذہبی مقدس فریضہ بن جاتا ہے۔اس لئے اس کے خلاف جذ بہ خواہ مردوں کی طرف سے ہو یا عورتوں کی طرف سے ہو ایک قومی جرم ہے۔اس زمانہ میں مسلمانوں نے یورپ کے اعتراضوں سے مرعوب ہو کر اس امر کو تسلیم کر لیا کہ دوسری شادی وحشت ہے، ظلم ہے، بربریت ہے۔بعض اسلامی ملکوں میں ایسے قوانین وضع کئے گئے کہ وہاں کے مسلمان باشندے ایک سے زیادہ شادیاں نہ کریں۔انہوں نے عورتوں کی آواز سے اپنی آواز ملائی