سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 181 of 677

سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 181

181 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ رو پیدا اپنے خزانہ سے فوج جمع کرنے کے لئے دیا۔۷۰۰ تو ہیں اور ۳۰۰۰ بندوقیں دیں اور دیگر امراء کو حکم دیا کہ وہ بھی امراء بالا کے ہمراہ رہیں۔اس حکم کی بناء پر یہ سب امراء اسی روز دہلی سے روانہ ہو پڑے۔شہر سے کچھ فاصلہ پر خیمے لگا کر فوج جمع کرنے لگے۔۳۰ نوٹ: اس جگہ خانِ دوران نمبر اول کے امراء میں شمار کئے گئے ہیں۔نظام الملک سے مراد آصف جاه اول بانی سلطنت آصفیہ حیدر آباد ہیں اور قمر الدین خان جو وزیراعظم تھے۔نواب خان دوران خان کے بڑے بیٹے تھے۔یہ لوگ فوج جمع کرنے میں مصروف ہی تھے کہ لاہور فتح ہونے کی خبر آ گئی۔تب ۹ جنوری ۳۹اء کو خان دوران نظام الملک اور قمر الدین خان دہلی سے دس کوس آگے بڑھے اور دوسرے دن بھی دس کوس چلے اور سونی پت پہنچ گئے۔یہ تفصیل ایک خط سے لی گئی۔جو سر بلند خان کے سیکریٹری نے میرزا مغل ولد علی محمد خاں کو ۱۵/ شوال ۱۱۵۱ھ کو احمد آباد میں لکھا تھا۔۱۲ ذی قعدہ ۱۱۵۱ھ کو بمطابق ۱۱ فروری ۳۹ ا ء کو شاہی کیمپ کرنال میں ہوا۔لشکر گاہ کا نقشہ یوں تھا: وسط میں خود بادشاہ کا خیمہ تھا۔اس کے سامنے نظام الملک اور قمر الدین کے مورچے تھے۔ان مورچوں پر شاہی توپ خانہ قائم کیا گیا تھا یہ سیدھی طرف خان دوران خان، مظفر خان، علی احمد خان ، میر گلو اور شہ داد خان کے خیمے تھے۔۱۵/ ذیعقد ہ کو نادر خان کے کیمپ میں پانی کی کمی ہوگئی تو وہ تلاوڑی کی طرف گیا۔اس نے خانِ دوران کے کیمپ کی پشت پر جا کر چار کوس کے فاصلہ پر قیام کیا۔یہاں اس امر کو بھی میں واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ جب فوج دہلی سے روانہ ہو رہی تھی۔اس وقت بادشاہ نے چاہا تھا کہ اسے دہلی میں رہنے دیا جائے مگر وزراء اور امراء سلطنت نے یہی مشورہ دیا کہ نہیں بادشاہ کا ساتھ رہنا از حد ضروری ہے۔اس لئے بادشاہ بھی ساتھ ہی تھا۔۱۶ ذیقعدہ کو سعادت خان شاہی کیمپ پر حاضر ہوا۔۹ بجے اطلاع آئی کہ نادرشاہ کے ہمراہیوں نے سامان پر پچھلی طرف سے حملہ کر دیا۔جس سے بہت سے آدمی مارے گئے اور بہت سامان لوٹ لیا گیا۔یہ سن کر سعادت خاں دربار سے رخصت ہوا اور جلدی سے اپنے آدمیوں کی مدد کو پہنچا۔خان دوران بھی قریب تھا وہ بھی اپنے دولڑکوں اور اپنی فوج کے ساتھ سعادت خاں سے مل گیا اور اس کے ساتھ ہی مظفر خان ، سید حسین خان ، خان زمان خان میر گلو، شه دادخان وغیرہ جمله رؤساء