سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 180
180 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ خاندانی حالات میں کچھ اور میں جب کہ نواب خان دوران کے متعلق لکھ رہا تھا۔اس وقت بعض معلومات جن کے بروقت پہنچنے کی توقع تھی وہ مجھ تک نہ پہنچ سکیں۔اس لئے بعض اہم معلومات درج ہونے سے رہ گئیں۔مگر بعد میں جبکہ وہ حصہ لکھا گیا تو وہ معلومات بھی مجھ تک پہنچ گئیں۔چونکہ یہ معلومات بہت اہم ہیں۔اس لئے میں نے ضروری سمجھا کہ ان کو کتاب میں ہر حالت میں شائع کر دوں۔اس لئے اس زائد عنوان سے ان معلومات کو لکھ رہا ہوں۔یہ معلومات دوذرائع سے مجھے ملی ہیں۔اول جناب میرزا فرحت اللہ بیگ صاحب ریٹائرڈ جج ہائی کورٹ حیدر آباد دکن کے ذریعے مسٹر جیمس فریزر ایک انگریز مصنف تھا جو نادرشاہ ایرانی کا ہمعصر تھا۔اس نے ۱۷۴۳ء میں ایک کتاب موسومہ نادر شاہ لنڈن میں شائع کی۔یہ کتاب تاریخ میں بہت مستند خیال کی جاتی ہے کیونکہ اس میں مسٹر فریزر نے چشم دیدہ حالات دیکھنے والوں سے دریافت کر کے لکھے ہیں۔میں بہت ممنون ہوں کہ جناب میرزا فرحت اللہ بیگ صاحب نے اپنے اوقات گرامی میں سے وقت نکال کر مجھے اس پرانی کتاب کا ترجمہ کر کے ارسال فرمایا اور اس طرح مجھے یہ قیمتی معلومات شائع کرنے کا موقع میسر آیا۔دوسرے مجھے مکرم مہاشہ فضل حسین صاحب کی راہنمائی سے ایک کتاب کا علم ہوا جو میں نے دفتر پیسہ اخبار لاہور سے منگوائی۔اس کتاب کا نام ہے ”ہندوستان پر حملے یہ کتاب ایک روی میجر جنرل سیولوف نے ابتداء میں روسی زبان میں لکھی۔جس کا ترجمہ انگریزی زبان میں لیفٹینینٹ کرنل ڈبلیو۔ای گووان پنشنر بنگال نے کیا اور پھر انگریزی سے میرزا علی حسین صاحب نے اُردو میں ترجمہ کر دیا اور دفتر پیسہ اخبار نے ۱۹۰۹ء میں اسے شائع کیا۔میجر جنرل سیولوف نے اپنی کتاب میں مسٹر فریزر کی کتاب سے بھی استشہاد کیا ہے۔اس لحاظ سے مسٹر فریزر کی کتاب کا مستند ہونا اور بھی قوی ہو جاتا ہے۔نادرشاہ اور نواب خانِ دوران نادرشاہ نے جب پشاور فتح کر لیا اور اس کی اطلاع دہلی میں یکم رمضان ۱۱۵۱ھ کو موصول ہوئی۔تو ۳ دسمبر ۱۷۳۸ ء کو محمد شاہ شاہنشاہ دہلی نے خان دوران ، نظام الملک اور قمر الدین خان کو نا در خان کے خلاف مہم پر روانہ کیا۔نواب خان دوران خان کی اپنی آمدنی جاگیر کے علاوہ شاہنشاہ نے ایک کروڑ