سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 158 of 677

سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 158

158 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ ہے۔اور جہاں جہاں جاتا ہے اس کی زبان سے کبھی انجمن یا اس کے سرکردگان خصوصاً مولوی غلام حسن صاحب، میر حامد شاہ صاحب، مولوی محمد علی صاحب، خواجہ کمال الدین صاحب، شیخ رحمت اللہ صاحب ، ڈاکٹر یعقوب بیگ صاحب، ڈاکٹر سید محمد حسین صاحب کی نسبت کلمہ خیر نہیں نکلا بلکہ ان لوگوں کی برائی کرنا اس نے اپنی تبلیغ کا ایک فرض سمجھ رکھا ہے۔اس کی یہ حالت دیکھ کر اس کا اپنا ایک الہام یاد آتا ہے جو اس نے قادیان میں سب کو سنایا تھا اور وہ یہ ہے کہ ناصر تیری درندگی اب تک نہیں گئی اور تو نے خدا کی بندگی اب تک نہیں کری ” غالباً میر صاحب موصوف کو ساری عمر میں یہی ایک الہام ہوا ہے اور یہ جیسا کہ ان کی حالت پر صادق آتا ہے اور جاننے والے بخوبی جاتے ہیں اس شخص نے پیغام صلح کے بند کرانے کیلئے ناخنوں تک زور لگایا ہے اور ڈانٹ ڈپٹ سے ، گالی گلوچ سے پیغام صلح کے خریداروں کی خبر لی ہے۔اگر میرزا محمود صاحب یا مسیح موعود صاحب کے دیگر رشتہ دار میر ناصر نواب اور ایڈیٹر الحکم کی زبان اور قلم کے طفیل بدنام ہوں تو ان کو برا نہ ماننا چاہئے کیونکہ ان کے داعیوں کے اخلاق ہی اس قسم کے ہیں۔اللہ تعالی پناہ دے تعجب آتا ہے کہ اس بوڑھے کو سوائے لوگوں کی برائی کرنے کے اور کوئی کام ہی نہیں رہا۔جب اس کی زبان اور دلی کدورت کا یہ حال ہے جو روپیہ یہ لوگوں سے قومی کاموں کے ناموں پر بٹورتا ہے اور جس کا اس نے آج تک کبھی حساب آمد وخرچ شائع نہیں کیا ان میں یہ کیسے اخلاص سے کام لیتا ہوگا۔ساری قوم کو ایسے آدمیوں نے الو بنا رکھا ہے اور کن کن طریقوں سے یہ لوگوں کے دلوں میں زہر پھیلا رہے ہیں۔قوم کے سرکردہ لوگ ہیں کہ قوم کی خبر تک نہیں لیتے ہیں۔مولوی نورالدین صاحب نے ذرا ہنس کر میر صاحب کا نام لیا تو ساری قوم واہ واہ کرنے لگ پڑی اگر یہ شخص اس قسم کا فتور حضرت مسیح موعود کی زندگی میں ڈالتا تو اسے آٹے دال کا بھاؤ معلوم ہو جا تا مگر اب پیر پرستی کا زور ہورہا ہے۔