سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 94
94 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ کی اولاد میں سے تھے۔میر نعمان صاحب بڑے مرتبہ کے درویش تھے۔ان کا ذکر شیخ عبدالقدوس صاحب گنگوہی چشتی صابری کے مکتوبات میں بکثرت ملتا ہے۔ان کا مقبرہ بھی آگرہ میں اب تک موجود ہے۔خواجہ شاہ محمد نصیر صاحب زینت النساء بنت خواجہ میر درد رحمۃ اللہ علیہ کے بیٹے تھے۔1199 ہجری میں پیدا ہوئے تھے خواجہ محمد نصیر صاحب اپنے ماموں کے لاولد رہ جانے کی وجہ سے خلیفہ بنائے گئے۔خواجہ محمد نصیر صاحب بھی شاعر تھے اور رنج تخلص کیا کرتے تھے۔خواجہ رنج صاحب کو بھی فنِ موسیقی میں بڑا کمال حاصل تھا۔چنانچہ لکھا ہے کہ ہمت خان گویا جو دہلی کا ممتاز ترین گویا تھا اپنا گا نا بغرض اصلاح حضرت رنج کو سنایا کرتا تھا۔خواجہ محمد نصیر صاحب نے خواجہ میر دردصاحب کے خاندان کے مفصل حالات پر ایک کتاب لکھی تھی جو افسوس ہے غدر ۱۸۵۷ء میں تلف ہو گئی۔خواجہ محمد نصیر کی وفات ۲ شوال کو ۲۶ ہجری میں ہوئی۔ان کی وفات پر مومن خان نے بی تاریخ لکھی۔زمان شد ز دہر روز پئے سال وفات فکر بلندم ره جنت ماوی گرفت گفت بمومن ملک خواجہ محمد نصیر در قدم ناصر و نکو جا گرفت درد ان کی عمر بہتر سال کی ہوئی۔آپ خواجہ صاحب میر اپنے ماموں کے پہلو میں دفن ہوئے۔ان کے اشعار میں سے ایک شعر بطور نمونہ درج کرتا ہوں۔خط دیکھ کر ادھر تو میرا دم اُلٹ گیا قاصد ادھر بدیده پرنم اُلٹ گیا خواجہ سید محمد نصیر صاحب کی اولاد آپ کی دو بیویاں تھیں پہلی بیوی سے ایک لڑکا خواجہ سید ناصر جان اور دختر بی نصیرہ بیگم صاحبہ دوہی اولادیں ہوئیں۔دوسری بیوی سے دو صاحبزادیاں پیدا ہوئیں ایک کا نام اشرف النساء بیگم صاحبہ اور دوسری کا انجمن النساء بیگم صاحبہ تھا۔