سید محموداللہ شاہ — Page 86
86 ٹی آئی سکول چنیوٹ کے ابتدائی حالات حضرت شاہ صاحب تعلیم الاسلام ہائی سکول کے ہیڈ ماسٹر تھے۔اور میں سکول میں دینیات کا استاد تھا۔تقسیم ملک کے بعد ہمارا سکول قادیان سے چنیوٹ منتقل ہو گیا۔ہر چیز لٹ پٹ چکی تھی۔اساتذہ (جو قادیان سکول میں تھے وہ ) بھی ادھر اُدھر بکھر چکے تھے۔سکول میں نہ کوئی فرنیچر تھا نہ سکول کا کوئی بورڈنگ۔حضرت شاہ صاحب نے اساتذہ کے تعاون سے چندہ اکٹھا کر کے سب کچھ تیار کر لیا۔بورڈنگ کے لئے تین عمارتیں مل گئیں اور سکول کی عمارت پہلے ہی موجود تھی۔آہستہ آہستہ طلباء آنے شروع ہو گئے۔ابتداء میں بورڈنگ میں پندرہ میں طلباء آ گئے۔حضرت شاہ صاحب نے بورڈنگ کا سارا کام خاکسار کے سپر د کر دیا۔چند مہینوں میں ہی حضرت شاہ صاحب کی دعاؤں اور کوشش اور مقناطیسی کشش سے سکول اور بورڈنگ طلباء سے بھر گیا اور ہمارے سکول کی شہرت اور نیک نامی نہ صرف چنیوٹ بلکہ سارے ضلع جھنگ میں خوشبو کی طرح پھیل گئی۔چنیوٹ کے مقامی اسلامیہ ہائی سکول کے طلباء اپنا سکول چھوڑ کر ہمارے سکول میں داخل ہونے شروع ہو گئے اور ہمارے سکول کا رعب اور وقار تمام شہر میں بڑھ گیا۔یہاں تک کہ چنیوٹ کے بعض مقامی طلباء اپنے گھروں میں رہنے کی بجائے ہمارے بورڈنگ میں داخل ہو گئے۔بورڈنگ میں رہائش اور پڑھائی کا انتظام بہت اچھا تھا۔ہمارے سکول میں دینیات کو سب سے زیادہ اہمیت دی جاتی تھی۔سکول کی پڑھائی شروع ہونے سے پہلے اسمبلی ہوتی تھی۔قرآن مجید کی تلاوت سے ابتدء ہوتی تھی۔بعدہ ” نونہالان جماعت کی نظم ( کلام سید نا خلیفہ اسیح الثانی نور اللہ مرقدہ) اور آخر میں پاکستان کا قومی ترانہ ہوتا تھا۔اور سکول کی اسمبلی میں روزانہ طلباء کو ادعیہ مسنونہ ( قرآن وحدیث کی دعائیں ) یا دکرائی جاتی تھیں اور پھر کلاسیں شروع ہو جاتی تھیں اور سکول میں روزانہ پریڈ بھی ہوتی تھی اور کام اور نگرانی