سید محموداللہ شاہ — Page 66
66 کے اکرام کا خیال مقدم تھا اور یہ بھی کہ اس قدر تکلیف اور درد کی شدت میں بھی سکول کے کام کے متعلق رپورٹ لینا دماغ سے نہیں اترتا تھا۔فرض منصبی کی بجا آوری کا خیال اور یہی وہ انہماک ہے جس نے آپ کو شہادت کا درجہ دیا۔کس قدر بلند اخلاق کا مالک اور بے نفس انسان تھا۔اللہ تعالیٰ غریق رحمت کرے۔چنیوٹ میں آپ کی نیکی کا اثر ہجرت کے بعد لاہور سے ہوتے ہوئے جب ہم چنیوٹ میں آئے تو اساتذہ اور طلباء کی مجموعی تعداد صرف ۳۴ تھی۔ادھر ادھر سے احمدی طلباء ملا کر ہم نے چنیوٹ میں سکول کو اہ کی تعداد سے شروع کیا تھا جس میں اساتذہ بھی شامل تھے۔ابتداء میں جس طرح خندہ پیشانی سے آپ نے بے سروسامانی اور مشکلات کا مقابلہ کیا اور احتباء اور طلباء کی رہبری فرمائی یہ اسی کا نتیجہ تھا کہ چنیوٹ میں ہمارے قدم جم گئے اور خدا تعالیٰ کے فضل۔ہمارے سکول نے چنیوٹ کے پرانے سکولوں سے بھی زیادہ ناموری اور عزت حاصل کر لی اور آپ کے حسن اخلاق سے متاثر ہو کر غیر احمدی افسران اور معززین نے اپنے بچوں کو ہمارے سکول میں داخل کروا دیا۔غیروں میں مقبول ہو جانا اور ان پر اپنے اخلاق کا سکہ بٹھا دینا شاہ صاحب کا ہی خاصہ تھا۔انسان کی زندگی کے بعد تو اخلاق کا تقاضا ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد بھی ہے کہ ہم ہر انسان کو اچھا ہی سمجھیں اور صرف اس کی خوبیوں کا ہی تذکرہ کریں اور عام طور پر ایسا ہی ہوتا ہے۔لیکن شاہ صاحب کا وجود ایسا تھا کہ اپنے اور غیر سبھی آپ کی زندگی میں ہی آپ کے مداح تھے۔چنانچہ چنیوٹ کے غیر احمدی بھی جن کو آپ سے ملنے کا اتفاق ہوا آپ کی تعریف میں رطب اللسان تھے اور آپ کی زندگی میں ہی آپ کو نہایت تواضح اور محبت سے ملتے تھے۔چنانچہ چودھری عبدالرحیم صاحب کلرک نے ذکر کیا کہ وہ ایک روز ایک کام کے سلسلہ میں چنیوٹ تحصیل میں گئے۔آپ کا ذکر آیا تو وہاں خزانچی صاحب نے اپنے ایک غیر احمدی ساتھی سے کہا کہ یہ شاہ صاحب کی بات ہے۔اس نے پوچھا کون سے شاہ صاحب! ان صاحب نے تعجب سے کہا سید محمود اللہ شاہ صاحب! آپ ان کو بھی نہیں جانتے وہ تو فرشتہ ہیں فرشتہ !!