سید محموداللہ شاہ — Page 58
58 ”سوانح عمریوں کی اس واسطے بھی کمی ہے کہ لوگ لکھنے اور ترتیب دینے کے وقت خیالی وجوہات اور علائق کو ضمیمہ بنا لیتے ہیں۔یہ اصول قرار دینا کہ لائف میں ہمیشہ اچھائیاں ہی دکھائی جاویں یا یہ کہ لائف ایک بڑے آدمی ہی کی لکھی جاوے، ناقص اصول ہے۔جب عموماً سوائے اخص کے کوئی لائف بھی کمزوریوں اور نقائص سے خالی نہیں تو پھر یہ ادعا کہ ہمیشہ ایک شخص کی لائف میں نیکیاں یا کامیابیاں ہی دکھائی جاویں ایک غیر ممکن امر کی وو آرز وکرنا ہے۔“ بڑے بڑے لوگوں کی سوانح عمریاں گو اپنے نام اور اپنے ذاتی جبروت اور عظمت کے اعتبار سے کیسی ہی مشہور ہوں۔لیکن ان سے زیادہ تر ان لوگوں کی سوانح عمری قابل حرمت اور قابل استناد ہے جو اپنی مدد آپ کا نمونہ ہیں۔اور جن کی ابتدائی زندگی اخیر زندگی کے مقابلے رات اور دن یا ظلمت اور نور کا فرق رکھتی ہے۔ہمیشہ بڑے بڑے واقعات سے ہی دلچسپ اور حیرت خیز نتیجے نہیں نکلا کرتے بعض اوقات معمولی اور چھوٹے چھوٹے قضایا بھی بڑے بڑے نتیجوں کا موجب ہو جاتے ہیں۔غور کرنے والا دل اور سوچنے والا دماغ چاہئے۔نتیجہ خیز باتوں سے نتیجہ نکل ہی آتا ہے۔الفت میں برابر ہے وفا ہو کہ جفا ہو ہر بات میں لذت ہے اگر دل میں مزا ہو (خیالات یعنی مجموعہ مضامین مختلفہ، باراول، لاہور: رفاہ عام اسٹیم پریس، جون 1907ء) اس باب میں حضرت شاہ صاحب کی سیرت و شخصیت کے بارہ میں آپ کے دوست احباب، رشتہ دار اور بعض بزرگان کے جو تاثرات و آراء دستیاب ہوسکیں، ان کا ایک حصہ نیز آپ کی زندگی میں رونما ہونے والے چیدہ چیدہ واقعات اور آپ کے بعض شاگردوں کے انٹرویوز پیش کئے جارہے ہیں۔