سید محموداللہ شاہ

by Other Authors

Page 57 of 179

سید محموداللہ شاہ — Page 57

57 ایسا ہوتا ہے کہ ایک شخص ایک نامور انسان کے واقعات پڑھنے کے وقت نہایت شوق سے اس شخص کے سوانح کو پڑھنا شروع کرتا ہے اور دل میں جوش رکھتا ہے کہ اس کے کامل حالات پر اطلاع پا کر اس سے کچھ فائدہ اٹھائے۔تب اگر ایسا اتفاق ہو کہ سوانح نویس نے نہایت اجمال پر کفایت کی ہو اور لائف کے نقشہ کو صفائی سے نہ دکھلایا ہو تو یہ شخص نہایت ملول خاطر اور منقبض ہو جاتا ہے اور بسا اوقات اپنے دل میں ایسے سوانح نولیس پر اعتراض بھی کرتا ہے اور درحقیقت وہ اس اعتراض کا حق بھی رکھتا ہے کیونکہ اس وقت نہایت اشتیاق کی وجہ سے اس کی مثال ایسی ہوتی ہے کہ جیسے ایک بھوکے کے آگے خوان نعمت رکھا جائے اور معاً ایک لقمہ اٹھانے کے ساتھ ہی اس خوان کو اٹھا لیا جائے۔اس لئے ان بزرگوں کا یہ فرض ہے جو سوانح نویسی کے لئے قلم اٹھاویں کہ اپنی کتاب کو مفید عام اور ہر دل عزیز اور مقبول انام بنانے کے لئے ، نامور انسانوں کے سوانح کو صبر اور فراخ حوصلگی کے ساتھ اس قدر بسط سے لکھیں اور ان کی لائف کو ایسے طور سے مکمل کر کے دکھلاویں کہ اس کا پڑھنا ان کی ملاقات کا قائم مقام ہو جائے تا اگر ایسی خوش بیانی سے کسی کا وقت خوش ہو تو اس سوانح نویس کی دنیا اور آخرت کی بہبودی کے لئے دعا بھی کرے اور صفحات تاریخ پر نظر ڈالنے والے خوب جانتے ہیں کہ جن بزرگ محققوں نے نیک نیتی اور افادہ عام کے لئے قوم کے ممتاز شخصوں کے تذکرے لکھے ہیں، انہوں نے ایسا ہی کیا ہے۔66 (کتاب البریہ، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۱۵۹-۱۶۲) سیرت و سوانح کے بارہ میں ایک بزرگ ادیب اور سید نا حضرت اقدس علیہ السلام کے فرزند اکبر خان بہادر حضرت مرزا سلطان احمد صاحب تحریر فرماتے ہیں: عجب دلچسپ نقشه عالم ایجاد رکھتا ہے جو آنکھیں دیکھ لیتی ہیں اُسے دل یا د رکھتا ہے