سید محموداللہ شاہ

by Other Authors

Page vi of 179

سید محموداللہ شاہ — Page vi

iii حضور نے فرمایا:- میں نے افریقہ کے دورے میں ایک یہ ہدایت دی تھی کہ اپنے بزرگوں کی نیکیوں اور احسانات کو یا درکھ کے ان کیلئے دعائیں کرنا یہ ایک ایسا اچھا خلق ہے کہ اس خلق کو ہمیں اجتماعی طور پر نہیں بلکہ ہر گھر میں رائج کرنا چاہیئے ان کے حالات کو زندہ رکھنا تمہارا فرض ہے ورنہ تم زندہ نہیں رہ سکو گے۔اس سلسلہ میں میں نے ایک ملک غالباً کینیا میں ایک کمیٹی مقرر کی تھی۔چنانچہ اس کمیٹی نے بڑا اچھا کام کیا اور ایک عرصہ تک ان کا میرے ساتھ رابطہ رہا اور بعض ایسے بزرگوں کے حالات اکٹھے کئے گئے جو نظروں سے اوجھل ہو چکے تھے۔اس لئے ہر خاندان کو اپنے بزرگوں کی تاریخ اکٹھا کرنے کی طرف متوجہ ہونا چاہئے۔ان کی بڑائی کیلئے شائع کرنے کی خاطر نہیں بلکہ اپنے آپ کو بڑائی عطا کرنے کیلئے ، ان کی مثالوں کو زندہ کرنے کیلئے ان کے واقعات کو محفوظ کریں اور پھر اپنی نسلوں کو بتایا کریں کہ یہ وہ لوگ ہیں جو تمہارے آباء واجداد تھے اور کس طرح وہ لوگ دین کی خدمت کیا کرتے تھے۔حضور نے فرمایا:- بعض ایسے بھی ہونگے جن کو یہ استطاعت ہوگی کہ وہ ان واقعات کو کتابی صورت میں چھوا دیں۔۔میں امید رکھتا ہوں کہ اگر اس نسل میں ایسے ذکر زندہ ہوں گے تو اللہ تعالیٰ آپ کے ذکر کو بھی بلند کرے گا اور آپ یاد رکھیں کہ اگلی نسلیں اسی طرح پیار اور محبت سے اپنے سر آپ کے احسان کے سامنے جھکاتے ہوئے آپ کا مقدس ذکر کیا کریں گی اور آپ کی نیکیوں کو ہمیشہ زندہ رکھیں گی۔(خطبہ جمعہ فرمودہ 17 مارچ 1989 ءاز الفضل 27 مارچ 1989ء) زیر نظر کتاب میں حضرت سید محمود اللہ شاہ صاحب کے سوانح حیات و کار ہائے زندگی کی ایک جھلک پیش کی جارہی ہے۔آپ دسمبر ۱۹۰۰ء میں رعیہ میں پیدا ہوئے اور ۱۶ دسمبر ۱۹۵۲ء کو