سید محموداللہ شاہ — Page 19
19 صاحب ایڈووکیٹ ( اللہ تعالیٰ آپ کے درجات بلند فرمائے ) تحریر کرتے ہیں: سید محمود اللہ شاہ صاحب ( اللہ تعالیٰ آپ سے راضی ہو ) سے میرے بہت پرانے تعلقات تھے۔ٹی آئی ہائی سکول ( قادیان) میں ان کے بڑے بھائی سید عزیز اللہ شاہ صاحب مرحوم میرے کلاس فیلو تھے۔۔۔سید محمود اللہ شاہ صاحب (اللہ تعالیٰ آپ سے راضی ہو ) ہم سے ایک کلاس پیچھے تھے اور ان کے برادر بزرگ حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب ہمیں انگریزی پڑھایا کرتے تھے۔ہم ایک ہی بورڈنگ میں ایک ہی جگہ پر رہا کرتے تھے اور نمازوں اور درسوں میں بھی ساتھ ہی رہا کرتے تھے۔ہم قطار بنا کر نمازیں پڑھنے جایا کرتے تھے تو محمود اللہ شاہ صاحب قطار میں سب سے پیچھے رہا کرتے تھے۔شاہ صاحب بہت ہی شر میلے واقع ہوئے تھے۔دوسرے لڑکے لڑتے جھگڑتے تھے مگر میں نے شاہ صاحب کو کسی سے لڑتے جھگڑتے نہیں دیکھا اور نہ ہی کبھی اونچی آواز سے بولتے سنا۔وہ متانت اور نہایت خاموشی سے اپنے کام میں لگے رہتے تھے۔ہمارے بورڈنگ میں ہفتہ واری میٹنگ ہوا کرتی تھی۔جس میں شاہ صاحب تلاوت قرآن کریم کے کام کو سرانجام دیا کرتے تھے۔بازار میں کھڑے ہوکر کوئی چیز نہ کھاتے تھے۔(حضرت سید محموداللہ ) شاہ صاحب حضرت خلیفہ اسیح الاوّل کے درسوں میں باقاعدہ شامل ہوتے تھے۔روزنامه الفضل ربوه ۲۳ / جنوری ۱۹۵۳ء) ایک سفر کی سعادت 1921ء میں سیدنا حضرت مصلح موعود نور اللہ مرقدہ طبی مشورہ کے مطابق معہ اہل خانہ و عزیز و اقارب ایک بڑے وفد کی صورت میں تین ماہ کیلئے کشمیر کے دورے پر تشریف لے گئے۔آپ کا یہ دورہ 25 جون سے شروع ہو کر 29 ستمبر 1921ء کو اختتام پذیر ہوا۔۔حضرت سید محمود اللہ شاہ صاحب کو اس سفر میں حضور کے ہمراہ جانے کی سعادت حاصل ہوئی۔اس سفر کے دوران حضور اننت ناگ اسلام آباد، گاندھر بل، چشمہ اچھا بل، چشمه ویری ناگ ،آسنور ،