سید محموداللہ شاہ — Page 18
18 تھے۔کھانا وہیں جاتا تھا اور عشاء کے وقت وہاں سے لے آتے تھے۔جن دنوں وہ قرآن شریف حفظ کر رہے تھے تو سید محمود اللہ شاہ صاحب اپنے والدین کے ساتھ قادیان آئے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو قرآن شریف کا ایک حصہ پڑھ کر سنایا حضرت مسیح موعود علیہ السلام سن کر بہت خوش ہوئے اور ان کو پیار سے گود میں بٹھا لیا۔(حضرت سید محمود اللہ شاہ صاحب نے آٹھ نو سال کی عمر میں مکمل قرآن شریف حفظ کر لیا تھا۔(حضرت) سید محمود اللہ شاہ صاحب کی بڑی ہمشیرہ (حضرت سیدہ زینب النساء بیگم صاحبہ ( یعنی والدہ صاحبہ سید عبد اللہ شاہ (ابن سید شیر شاہ صاحب) سے روایت ہے کہ بچپن میں شاہ صاحب گھر میں کسی سے مانگ کر یا کسی سے چھین کر نہیں کھایا کرتے تھے مزاج میں ضد ، شوخی یا چڑ چڑا پن نہیں تھا۔بہت سنجیدہ ، خاموش اور کوہ وقار تھے۔الفضل ربوه ۲۳ جنوری ۱۹۵۳ء) ٹی آئی سکول قادیان میں آپ کے بڑے بھائی حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب اور حضرت ڈاکٹر سید حبیب اللہ شاہ صاحب ۱۹۰۳ء سے قادیان میں تعلیم حاصل کر رہے تھے اس کا ذکر حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب نے اپنی خود نوشت سوانح حیات میں کیا ہے۔حضرت سید محمود اللہ شاہ صاحب ۱۹۰۸ء میں حصول تعلیم کیلئے ٹی آئی سکول قادیان میں داخل ہوئے۔جہاں سے آپ نے ۱۹۷ ء میں میٹرک کا امتحان پاس کیا۔۱۹۱۷ ء میں ہی میٹرک مکمل کرنے کے بعد آپ بی۔اے کرنے کی غرض سے لاہور تشریف لے آئے جہاں آپ نے اسلامیہ کالج لاہور سے بی۔اے کا امتحان ۱۹۲۱ ء میں پاس کیا۔دوران تعلیم آپ نے رہائش احمد یہ ہوٹل لاہور میں اختیار کی۔خودنوشت سوانح حیات ولی اللہ شاہ۔رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۲۸ صفر ۲۴۴۔الفضل ۲۳ جنوری ۱۹۵۳ء) آپ کے قادیان میں طالب علمی کے زمانہ کی بابت مکرم و محترم ضیاء الدین احمد قریشی