سید محموداللہ شاہ — Page 103
103 طلباء کیلئے مفت کتب کا اہتمام جب چنیوٹ میں سکول قائم ہوا تو اس وقت حالت یہ تھی کہ ٹوٹی پھوٹی بلڈنگ ہمیں ملی۔جس میں غالباً اب ٹریننگ ایلیمنٹری کالج ہے۔چنیوٹ سے گزر کر لا ہور کو جب مڑتے ہیں تو دائیں طرف کی عمارت میں اسکول پہلے پہلے آ کے قائم ہوا تھا۔اس زمانے میں کہاں کرسیاں اور کہاں میزوں پر ہم بیٹھا کرتے تھے۔لٹے پٹے عالم میں ہم لوگ آئے تھے۔کسی کے پاس کوئی وسائل نہ تھے۔حضرت شاہ صاحب نے یہ طریق اختیار کیا کہ کتابیں بچے نہ خریدیں۔چنانچہ انہوں نے ہر مضمون کی کتابوں کے سیٹ منگوا کر سکول کی لائبریری میں رکھوا دیئے۔چالیس پچاس کی یاتمیں پینتیس بچوں کی کلاس ہوتی تھی اور تمیں پائیس کتا ہیں لائبریری سے آ جاتی تھیں اور وہ کلاس میں تقسیم ہو جاتیں۔اس طرح پڑھائی ہو جاتی۔کلاس کے بعد وہ کتب واپس لائبریری میں چلی جاتیں۔کاپیاں لڑکے اپنی استعمال کرتے اور اساتذہ نوٹس تیار کر کے طلباء کو دیا کرتے تھے۔اس زمانہ میں اساتذہ کرام ایسی ہی شفقت سے پڑھاتے تھے۔یہ حضرت شاہ صاحب کی اپنی طبیعت کا کمال تھا جو انہوں نے اساتذہ کو ایک لہی جذبے کے ساتھ پڑھانے پر لگا دیا تھا۔سارے اساتذہ ہمیں بڑی محنت سے پڑھاتے۔آپ کے زمانے میں ٹی آئی سکول نے جبکہ سارے وسائل گو یا معدوم تھے اور پہلے دو تین سال تو بہت ہی مشکل حالات تھے۔پنجاب یونیورسٹی کے زیر انتظام اس وقت امتحان ہوا کرتے تھے۔پنجاب یونیورسٹی کی اعلیٰ پوزیشنیں ہمارے طلباء کی ہوتیں۔رزلٹ ایسا اچھا نکلتا کہ پچانوے فیصد طلباء فرسٹ ڈویژن میں کامیاب ہوتے۔ٹی آئی سکول کے ساتھ ہی چنیوٹ کی شیخ برادری کا اصلاح ہائی سکول ہوا کرتا تھا۔وہ سکول اب بھی ہے غالباڈگری کالج ہے۔اس دور میں جب ہمارے سکول کی شہرت ایسی بڑھی تو اصلاح سکول سے لوگوں نے اپنے بچے ہمارے سکول میں داخل کرانے شروع کر دیئے۔وہاں کی انتظامیہ نے حضرت شاہ صاحب سے احتجاج کیا کہ آپ یہ ہمارے طالب علم کیوں لیتے