سید محموداللہ شاہ — Page 95
95 لے کر آپ کے سامنے حقیقت کا اظہار کیا ہے۔ورنہ ابھی تک میں نے آپ کی جماعت کے بانی کے دعاوی اور تعلیم اور ( دین حق ) کے سچا مذہب ہونے کے بارے میں بھی سوچا ہی نہیں اور نہ اس طرف کبھی خیال کیا ہے کیونکہ میرا اس حد تک مذہب سے لگاؤ نہیں ہے۔ہاں صرف اتنا جانتا ہوں کہ آپ بھی دوسروں کی طرح محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو ماننے والے ہیں اور دین کی تعلیم پر صحیح طور پر عمل کرنے اور غیر مسلموں کو ( دین حق) کی تعلیم سے آشنا کرنے میں دوسروں سے زیادہ مستعد اور زیادہ کوشاں ہیں۔“ آخر میں خاکسار نے ان سے عرض کیا کہ چونکہ اس دنیا میں انسانی زندگی کے حقیقی مقصد کی طرف صرف مذہب ہی رہنمائی کرتا ہے اس لئے ہم مذہب سے بیگانگی یا بے اعتنائی نہیں برت سکتے۔لہذا میں امید کرتا ہوں کہ میری طرف سے آپ کو پیش کرده ( دین حق ) کی مقدس کتاب قرآن کریم اور دیگر ( دینی ) لٹریچر کا آپ گہری نظر سے مطالعہ کریں گے اور ( دین حق ) اور احمدیت کی حقیقت اور سچائی معلوم کرنے کی پوری کوشش کریں گے اور حق واضح ہو جانے پر ( دین حق ) قبول کر کے اور حضرت سید نا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی میں آ کر اس دنیا میں اپنی زندگی کے حقیقی مقصد کو پورا کرنے والے بنیں گے۔آمین روزنامه الفضل ربوه ۲۱ / مارچ ۱۹۸۳ء)