سید محموداللہ شاہ — Page 94
94 ہوں اور کچھ نہیں جانتا۔میں تو ایک لمبے عرصہ سے نہ صرف آپ کے مشن سے اور آپ کی ( دعوت الی اللہ ) اور تعلیمی سرگرمیوں سے متعارف ہوں بلکہ آپ کی جماعت اور ( مربیان ) سے میرے بڑے اچھے مراسم رہے ہیں اور میں آپ کی جماعت کے مداحوں میں سے ہوں اور بہت کچھ جانتا ہوں۔بلکہ آپ کے جماعت کے افراد کے اعلیٰ اخلاص اور حسنِ کردار سے بہت متاثر ہوں اور کئی ایک سے میرے دوستانہ مراسم بھی رہے ہیں نیروبی کے محکمہ تعلیم میں آپ کے کئی سرکردہ نمبر میرے ساتھ مل کر کام کرتے رہے ہیں ان میں سے اپنے ایک احمدی مخلص دوست محترم محمود اللہ شاہ صاحب (مرحوم) کو تو ان کی علمی قابلیت اور بلند اخلاق اور امانت و دیانت کی وجہ سے میں کبھی فراموش نہیں کر سکتا وہ بھی میری طرح وہاں انسپکٹر آف سکولز تھے اور میں ان کی جاذب اور پرکشش شخصیت اور حسنِ معاملہ اور دوست پروری سے بہت متاثر تھا۔اس پر میں نے عرض کیا آپ نے انجیل مقدس میں حضرت مسیح علیہ السلام کا یہ قول تو ضرور پڑھا ہو گا کہ درخت اپنے پھلوں سے پہچانا جاتا ہے اپنے احمدی دوستوں اور ہم پیشہ ساتھیوں کے متعلق آپ کی یہ رائے بڑی صائب اور قابلِ قدر ہے۔حضرت مسیح علیہ السلام کے قول کی روشنی میں آپ کو غور کرنا چاہئے۔کیا آپ کے احمدی دوستوں کا یہ کردار اس امر کا ثبوت نہیں ہے کہ جس روحانی درخت سے احمدی وابستہ ہیں وہ سچا اور شیریں پھل دینے والا درخت ہے۔یعنی ( دینِ حق ) ایک سچاند ہب ہے جو اپنے مخلص پیروؤں کو اعلیٰ اخلاقی اور تمدنی معیار پر پہنچانا ہے اور حضرت بانی جماعت احمدیہ علیہ السلام واقعی حضرت مسیح ناصری علیہ السلام کی طرح ایک مامورمن اللہ اور عظیم مصلح ہیں کیونکہ پھل میٹھے درخت کے ہی میٹھے ہوتے ہیں کڑوے درخت کے پھل میٹھے نہیں ہو سکتے۔میری یہ بات وہ غور سے سنتے رہے اور پھر کہنے لگے میں نے تو صاف گوئی سے کام