سید محموداللہ شاہ — Page 134
134 اصلاح کے بعد اس نے اس طرف توجہ کی اس نے اس عہد کو اچھی طرح نبھایا۔اس کے علاج سے بہت سے حیوان کیڑے مکوڑے، گدھے کتے ، انسان سے با اخلاق انسان اور پھر باخدا انسان بنے۔بعض درندے اور خنزیر اس ” آسمان سے اترنے والے کے ذریعہ قتل وہلاک ہوئے تا زمین والوں کی راہ سیدھی ہو۔“ اس ” فرزند دلبند گرامی ارجمند سے قومیں برکت پر برکت پارہی ہیں۔امیر رستگاری پا رہے ہیں۔بے شک میرے اللہ تو سچا۔تیرے وعدے بچے۔تیرے فرمان حرف بہ حرف پورے ہوئے اور ہور ہے ہیں۔میری دعا ہے کہ فتح وظفر کی کلید اپنی آب و تاب میں بڑھتی چلی جائے اور اس کا انتقام نہ ختم ہو اور نہ ختم ہو۔میں دنیا سے اُٹھ جاؤں۔میری ہڈیاں خاک ہو جائیں۔پر اس کے حسن اور اس کی شان میں فرق نہ آئے۔یہ غلام ز کی بڑھتا چلا جائے اور جلد جلد بڑھتا چلا جائے۔نقطہ کمال کی تو حد نہیں۔انتہا نہیں جس طرح تیری حد اور انتہاء نہیں۔۔۔اے خدا ! تو یوں ہی کر !!“ الحکم قادیان ۲۱ ؍ دسمبر ۱۹۳۷ء صفحه ۹-۱۰)