سید محموداللہ شاہ — Page 135
135 تعلیم الاسلام ہائی سکول حضرت سید موداللہ شاہ صاحب سابق ہیڈ ماسٹر تعلیم الاسلام ہائی سکول چنیوٹ تحریر کرتے ہیں: میں احباب جماعت کی آگاہی کے لئے سکول کے بعض کوائف ذیل میں درج کرتا ہوں تا کہ دوستوں کو اپنے سکول کی رفتار ترقی اور ہماری مشکلات اور ضروریات سے آگاہی ہو اور وہ اپنی مرکزی درسگاہ کی بہتری اور کامیابی کے لئے دعا فرماتے رہیں۔امسال (۱۹۵۰ء میں ) میٹرک کے امتحان میں ۵ے طلباء شریک ہوئے اور ان میں سے خدا تعالیٰ کے فضل سے ۶۱ کامیاب ہوئے گویا نتیجہ فیصدی ۸۲۔۷ رہا۔اگر چہ یہ نتیجه گذشته سال ۹۵ فیصدی کے مقابلہ میں کمتر ہے۔لیکن یونیورسٹی کی عام اوسط ۴ فیصدی اور سکولوں کی ۶۲ فیصدی کے لحاظ سے خدا تعالیٰ کے فضل سے خاصا اچھا ہے۔اس سلسلہ میں اگر اس امر کوملحوظ خاطر رکھا جائے کہ ہمارے سکول میں دوسرےسکولوں کے دستور کے برعکس دسمبر تک داخلہ ہوتا رہتا ہے اور باہر سے آنے والے طلباء الا ماشاء اللہ ہمارے پرانے کی نسبت بالعموم کمزور ہوتے ہیں (اگر ایسا نہ ہوتا ) تو ہمارا نتیجہ اور بھی خوشکن ہو جاتا۔پچھلے ہی سال نومبر میں درج رجسٹر ڈ طلباء کی تعداد ۶۳ تھی اور دسمبر کے وسط میں جب کہ میٹرک کا داخلہ بھجوایا گیا طلباء دہم کی تعداد۷۵ ہو چکی تھی۔اگر چہ اپنے آپ کو تسلی دینے کے لئے طلباء کا آخر وقت تک داخل ہوتے رہنا ہمارے نتیجہ کے یو نیورسٹی بھر میں اول نہ رہ سکنے کی ایک بھاری وجہ بن جاتی ہے لیکن ان کو ہمارے نجی نظام سے کیا سروکار انہیں تو نتیجہ دیکھنا ہے۔ہماری مشکلات ہمارے ساتھ ہیں۔لیکن بہر حال امسال ہمارے نتیجے کے گذشتہ سال کی نسبت کمتر ہونے کو میں اور میرے رفقائے کار بہت بُری طرح محسوس کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ہماری شامت اعمال ہمارے ادارہ کی نیک نامی کے راستہ میں روک ہوتی ہے اور انشاء اللہ ہم اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی تو فیق اور اس کے فضل سے اب لڑکے نتیجہ کو بہتر بنانے کی کوشش کریں گے۔لیکن فقط میر ایا میرے رفقاء کار کا عزم اور احتیاط کے ساتھ کام کرنا شائد نتائج پیدا نہیں کر