سید محموداللہ شاہ

by Other Authors

Page 129 of 179

سید محموداللہ شاہ — Page 129

129 فصیح ہوتی ہے۔میں باتیں کرنا جانتا ہوں۔عموماً ہر مسئلہ پر بحث بھی کر سکتا ہوں۔دلائل سمجھ سکتا ہوں دے سکتا ہوں۔مختلف مضامین کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈال سکتا ہوں۔اعتراضات کو ٹھنڈے دل سے سن سکتا ہوں۔مگر مجھے چھوڑ دو۔تنہائی میں مجھے چھوڑ دو۔پھول کی نازک اندامی قابل تحسین نہیں۔کیا یہ ضروری ہے کہ میں اس کی خوبصورتی پر تبصرہ کروں۔اس کی دل کو برما دینے والی نگہت کو الفاظ میں ادا کروں۔یہ کیوں میری نظروں میں خوبصورت ترین شے ہے میں نہیں بتاؤں گا۔نہ پوچھو مجھ سے یہ راز نہ پوچھو۔تم سن کر مسکرا دو گے اور مجھے دیوانہ سمجھو گے۔ہاں یہ درست ہے میں دیوانہ ہوں۔مگر یہ بھی صحیح ہے میری دیوانگی لاکھوں کی فرزانگی سے ہوشمند ہے۔ہوشربا ہے۔میری دیوانگی مجھے اکثر وہاں پہنچاتی ہے جہاں عقلمندوں کے خیال کو بھی پہنچ نہیں۔فلسفہ و منطق کی بلند ترین پرواز اس سے بہت نیچے رہتی ہے۔اس لئے میں نہیں بتاؤں گا کہ یہ نھا سا پھول مجھے کیوں محبوب ہے۔یہ راز سر بستہ میرے اور اس کے درمیان ہی رہے گا۔میرے اطمینان دل کیلئے یہ کافی ہے کہ یہ پھول میرا محرم ہے۔جب میں اسے نہیں دیکھتا تو اس وقت بھی یہ میرے پیش نظر رہتا ہے اس کی ہیئت روحی اور اس کی کیفیت معنی میرے دل و دماغ میں موجود رہتی ہے۔تم بے شک اسے اپنے قریب کر کے سونگھو۔میں تم سے لڑ تھوڑا ہی سکتا ہوں۔مگر میں تو اسے ناک کے قریب لانا بے ادبی، بے حرمتی سمجھتا ہوں۔اس کا حسنِ معنی اس کی لطافت باطنی میرے رگ و تار میں پنہاں ہے اس کی خوبصورتی میرے تمام حواس پر مستولی ہے۔میں اپنی سیر میں اسے دیکھتا ہوں۔ایک سرد آہ بھر کر گذرجاتا ہوں۔لو مجھے بھی ایک رفیق سیر مل گیا اب تو میں تنہا نہیں؟ اچھا ہوا تم میرے ساتھ نہیں آئے ورنہ تمہیں مجھ سے شکوہ ہوتا۔میں تمہارے لئے کیونکر سامان تفریح ہو سکتا ہوں۔تمہارا مسلک جدا میرا طریق جدا۔میں پھول کو دیکھ کر کیوں خاموش اور افسردہ ہو گیا ہوں؟ نہیں میں خاموش تو نہیں۔ہاں تم اس طرز تکلم سے نا آشنا ہو۔تم اس اسلوب گفتگو سے بے خبر ہو۔حاشا میں تمہاری تحقیر نہیں کر رہا۔ہر کے را بہر کارے ساختن۔جو خوبیاں تم میں ہیں مجھ میں نہیں اور رہا یہ کہ میں افسردہ ہوں۔میرے عزیز یہ بھی صحیح نہیں ہر ایک