سید محموداللہ شاہ — Page 83
83 بہت شریف النفس اور تقویٰ شعار آپ کے ایک دوست سلسلہ کے بزرگ حضرت مرزا عبدالحق صاحب رحمہ اللہ تعالیٰ آپ کے بارے میں اپنے تاثرات میں تحریر فرماتے ہیں: ”حضرت سید موداللہ شاہ اور خاکسار دونوں ۱۹۷ء میں لاہور میں فرسٹ ائیر کے طالب علم تھے اور احمد یہ ہوٹل میں رہتے تھے۔شاہ صاحب آرٹس میں تھے اور میں سائنس میں۔اسی وقت سے اُن سے دوستانہ تعلقات شروع ہوئے۔حضرت شاہ صاحب ماشاء اللہ بہت شریف النفس اور تقویٰ شعار تھے۔نمازوں کے پورے پابند اور دینی کاموں میں خوب حصہ لیتے تھے۔اس زمانہ میں خدا کے فضل سے احمد یہ ہوٹل کے سارے طالب علم ہی اخلاقی لحاظ سے بہت نمایاں تھے۔ان میں سے اکثر قادیان سے آئے تھے۔شاہ صاحب بھی انہی میں سے تھے۔خاکسار شملہ سے آیا تھا۔جہاں خاکسار کے بھائی اور چاوغیرہ گورنمنٹ آف انڈیا کے ملازم تھے۔کالج کی تعلیم سے فارغ ہو کر حضرت شاہ صاحب خدمت سلسلہ کے لئے شعبہ تعلیم میں افریقہ بھیجے گئے اور خاکسار نے حضرت مصلح موعود نوراللہ مرقدہ کے حکم کے تحت گورداسپور میں وکالت شروع کی۔شاہ صاحب کے ساتھ ان کے افریقہ جانے تک دوستانہ تعلقات اور میل جول رہا۔شاہ صاحب کے ساتھ ان کے افریقہ جانے کے بعد ان سے خط و کتابت تو نہ رہی لیکن سالہا سال بعد ۱۹۳۶ء میں ان کا ایک خط مجھے نیروبی سے ملا جس میں چونکہ ایک خواب کا ذکر تھا۔اس لئے میں نے اسے اپنی خوابوں والی کاپی میں نقل کر لیا۔یہ خط یکم مارچ ۱۹۳۶ء کا تحریر کردہ ہے۔اس سے حضرت شاہ صاحب کی زندگی کے بعض پہلوؤں پر روشنی پڑتی ہے۔ان کا پابند تہجد ہونا اور نہایت اعلی قسم کی دعائیں کرنا اور تقویٰ وطہارت وغیرہ۔وہ خط حسب ذیل ہے۔پرسوں میں نے خواب دیکھا میں کسی دوست کے ساتھ گورداسپور کسی کام کیلئے گیا ہوں۔کام سے فارغ ہو کر عصر کے قریب میں اس کو ساتھ لیکر آپ کے مکان پر پہنچا ہوں آپ سائیکل لئے قادیان تشریف لے جانے کی تیاری میں ہیں۔آپ کے