سید محموداللہ شاہ — Page 74
74 گئے۔کئی سال تک بے مثال دینی خدمات بجالاتے رہے۔چنانچہ قرآن کریم کے انگریزی ترجمہ میں بھی امداد فر مایا کرتے تھے۔۱۹۵۲ء میں سکول چنیوٹ سے ربوہ میں منتقل ہو گیا اور شاہ صاحب نے سکول کے قریب رہائش اختیار کر لی۔۱۹۵۱ء کے جلسہ کے بعد شاہ صاحب مہینہ بھر بیمار رہے۔گذشتہ گرمیوں میں بھی سخت تکلیف تھی۔دل کی تکلیف رہا کرتی تھی۔۱۵ دسمبر ۱۹۵۲ ء دن کے ۱۲ بجے بیمار ہوئے۔اس دفعہ بیماری کا حملہ بہت سخت تھا اور بروز منگل صبح ۵ بجے اس دار فانی سے رحلت فرما گئے اور اپنے مالک حقیقی سے جاملے۔انا للہ وانا الیہ راجعون۔اللہ تعالیٰ جنت میں ان کے درجات بلند کرے۔دنیا سے بالکل بے نیاز شاہ صاحب کی سیرت تو ان واقعات سے ظاہر ہے جو میں نے اوپر بیان کئے ہیں۔مگر وہ محبت اور عقیدت جو مجھے شاہ صاحب سے تھی اور ہے اور جو محبت وعقیدت ان کے عزیزوں اور احباب کو ہے اس کا تقاضہ ہے کہ چند کلمات اور عرض کر دوں۔حضرت سید عبدالستار شاہ صاحب کے گھر میں چارلڑ کے پیدا ہوئے اور سبھی جماعت کے واسطے مفید ثابت ہوئے۔تجربہ کی بناء پر عرض ہے کہ سید محمود اللہ شاہ صاحب ان سب بھائیوں میں ممتاز تھے۔باپ کے نہایت فرمانبردار بیٹے دوستوں کے لئے نہایت و فادار دوست، بیوی کے لئے نہات اچھے خاوند اولاد کیلئے شفیق باپ اور جماعت کے لئے نہایت مفید وجود ثابت ہوئے۔شاہ صاحب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے رنگ میں رنگین تھے۔دنیا میں رہ کر بھی دنیا سے الگ رہتے تھے۔حقوق اللہ وحقوق العباد کا بہت خیال رکھتے تھے۔نفس پہ موت آئی ہوئی تھی۔ان کی اہلیہ صاحبہ نے بتایا کہ روپیہ جمع کرنے یا جائیداد بنانے کی قطعا خواہش نہ تھی اور وہ فرماتی ہیں کہ جب کبھی میں نے کہا کہ شاہ صاحب ہمیں بھی ایک مکان بنالینا چاہئے تو ہمیشہ یہی جواب دیتے کہ: ”دنیا کے مکانات وفا نہیں کرتے۔دعا کرو کہ اللہ تعالیٰ جنت میں مکان بخشے کیونکہ (صالح) کی رہائش کی اصل جگہ وہی ہے“