سید محموداللہ شاہ

by Other Authors

Page 75 of 179

سید محموداللہ شاہ — Page 75

75 حضرت شاہ صاحب دنیا سے بالکل بے نیاز واقع تھے۔یعنی دنیاوی شان و شوکت کی خواہش نہیں رکھتے تھے۔عہدوں کی خواہش کبھی نہیں کرتے تھے۔لیکن اگر سمجھتے کہ عہدہ قبول کرنے میں سلسلہ کا فائدہ ہے تو وہ عہدہ قبول کر لیتے تھے۔طبیعت کے بہت حلیم اور بردبار تھے۔کسی شخص نے کتنا ہی دکھ دیا ہو لیکن اگر وہ گھر پر آ جاتا اور امداد کی درخواست کرتا تو بڑی محبت سے پیش آتے جب نیروبی میں تھے۔تو ہندو سکھ عیسائی سب کی امداد کرتے تھے۔فرمایا کرتے تھے کہ ہمدردی کے لحاظ سے سب انسان برابر ہیں۔خدمت خلق کا جذ بہ بہت تھا۔سخت بیماری کی حالت میں بھی لوگوں کے لئے سفارشی خطوط لکھتے تھے اور بیماری کی حالت میں ہی لوگوں کے ساتھ لائل پور وغیرہ جایا کرتے تھے اور ان کے کام کرتے تھے۔حضرت خلیفہ اسیح ( نور اللہ مرقدہ سے بہت محبت رکھتے تھے۔نرم مزاج طبیعت میں غصہ نہیں تھا۔اگر آتا تھا تو پی جاتے تھے اور زیادہ سے زیادہ اپنے برادر بزرگ سے جا کر کل واقعہ کہہ دیتے تھے۔جھڑ کی دینے یا ناراض ہونے کے عادت نہ تھی۔اٹھتے بیٹھتے دعاؤں میں مشغول رہتے تھے۔ہجرت سے پہلے اشراق کی نماز بھی ادا کیا کرتے تھے۔ہجرت کے بعد دل کی تکلیف کی وجہ سے سجدہ میں دم گھٹتا تھا اس لئے چھوڑ دی تھی۔محبت قرآن کریم تیسرے چوتھے دن قرآن شریف ختم کر لیتے تھے۔۱۹۴۹ء میں دس دفعہ قرآن شریف ختم کیا۔فرماتے تھے کہ میری صلاح تو پندرہ دفعہ ختم کرنے کی تھی۔حقوق العباد کا بہت خیال رکھتے تھے۔فرمایا کرتے تھے کہ بندوں کے گناہ بندوں سے بخشوانے چاہئیں۔نوکروں سے بھی بہت شفقت کا سلوک کرتے تھے اور دستر خوان پر اپنے ساتھ کھانا کھلاتے تھے۔چھوٹے سے چھوٹا آدمی بھی آکر ملنے آتا تو اس سے پوری عزت و احترام سے پیش آتے اور اسے کرسی دیتے۔مہمان نواز بہت زیادہ تھے۔جب کبھی خاکسار چنیوٹ جاتا تو شاہ