سید محموداللہ شاہ

by Other Authors

Page 64 of 179

سید محموداللہ شاہ — Page 64

64 والے دوست آتے۔نہایت محبت اور اخلاص سے انہیں ملتے۔اُٹھ کر سلام کرتے دونوں ہاتھوں سے مصافحہ کرتے۔بیٹھنے کو کہتے پھر خود بیٹھتے۔حاجت مند کی بات پوری توجہ اور ہمدردی سے سنتے اور اس کو ضروری امداد اور مشورہ سے مستفیض فرماتے۔یہاں تک کہ ملاقاتی کی تسلی ہو جاتی۔آخری دن کی ملاقاتیں ملاقاتوں کا یہ سلسلہ جو آپ کے ماتحت کارکن اور بیرونی احباب پر مشتمل ہوتا متواتر جاری رہتا۔آپ اپنے فرائض منصبی بھی ادا کرتے جاتے اور نہایت خندہ پیشانی سے دوسروں سے بات بھی جاری رکھتے۔چہرہ پر تقسم کھلتا رہتا اور آپ کی محفل گرم رہتی۔آپ کا زمانہ ہمارے لئے ایک مشترک اور اخلاقی حکومت کا عہد تھا۔جو ہم میں سے کسی ایک پر بھی دوبھر نہ تھا۔وہ خود بھی فرماتے اور ہم بھی یہی سمجھتے کہ ہم میں سے ہر ایک ہی ہیڈ ماسٹر ہے۔آخری روز ۱۵ / دسمبر کو جب آپ کو بیماری کا حملہ ہوا اس روز بھی سکول میں تشریف لائے۔صبح اسمبلی لی اور معمول سے زیادہ لمبی نصائح کیں۔اتفاق سے وہ حدیث جو اس روز سنائی گئی۔بنی نوع انسان سے ہمدردی کے متعلق تھی۔یہ چیز خود آپ کو مرغوب تھی۔آپ اس پر عامل تھے اور تخلقوا باخلاق اللہ کے مظہر تھے۔اس کی مفصل تشریح کی۔سارا وقت سکول میں رہے اور فرائض منصبی کی سرانجام دہی کے بعد مکان پر تشریف لے گئے۔مجھے تو آپ سکول کے ایک کام کے سلسلہ میں لاہور بھجوا چکے تھے۔ہاں محترم صوفی محمد ابراہیم صاحب کا بیان ہے کہ جب وہ بارہ بجے کے قریب آپ کے مکان پر پہنچے تو بیماری کا حملہ ہو چکا تھا اور نبض کی حرکت بند ہو رہی تھی۔کمرے میں اکیلے لیٹے تھے۔جب صوفی صاحب پہنچے تو فرمایا کہ میں تو اب ختم ہو رہا ہوں۔آپ میری طرف سے تمام اساتذہ اور طلباء سے کہہ دیں کہ اگر کسی کو میری طرف سے کبھی کوئی تکلیف پہنچی ہو تو وہ مجھے معاف کر دے۔اس فقرہ کو تین دفعہ دہرایا اور تسلی کر لی کہ ان کا یہ پیغام صوفی صاحب نے اچھی طرح سمجھ لیا ہے۔اللہ اللہ ! وہ انسان جس نے کبھی کسی کا دل نہ دکھایا ہو اس قدر نیک نیت اور بے ضرر ہو جس نے ہر کام حصول ثواب کی خاطر کیا ہو۔اسے اس بات کا بھی کس قدر احساس ہے کہ فرائض منصبی کی بجا آوری کرتے ہوئے بھی