سید محموداللہ شاہ — Page 61
61 حضرت شاہ صاحب کے نمایاں کارنامے مکرم و محترم ماسٹر محمد ابراہیم صاحب بی۔اے ٹی آئی ہائی سکول ربوہ جنہیں ایک لمبا عرصہ قادیان اور ربوہ میں حضرت سید محمود اللہ شاہ صاحب (اللہ تعالیٰ آپ سے راضی ہو ) کے ساتھ خدمات بجالانے کا موقعہ ملا۔آپ حضرت شاہ صاحب کی بابت اپنے تاثرات یوں تحریر کرتے ہیں۔محترم حافظ سید محمود اللہ شاہ صاحب (ہیڈ ماسٹر تعلیم الاسلام ہائی سکول ربوہ ) ۱۵ ؍ دسمبر ۱۹۵۲ء کو دل کی تکلیف سے بیمار ہوئے اور باوجود موجود الوقت ممکن طبی امداد کے میسر آنے کے اس حملہ کا مقابلہ نہ کر سکے اور ۱۶ دسمبر ۱۹۵۲ء کو پانچ بجے کے قریب راہی ملک عدم ہوئے۔انا لله و انا اليه راجعون۔اس حادثہ جانکاہ کے اتنا جلد بعد آپ کے متعلق لکھنا مجھے مشکل نظر آتا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ اس فدائی مخلص کارکن اور ایک محسن شریک کار کی جدائی مجھ پر اس قدر شاق گزررہی ہے کہ یکسوئی اور دلجوئی سے آپ کا ذکر خیر اور آپ کے محاسن کو یکجا اور اکٹھا کرنا میرے لئے امر محال ہے۔میں سردست اپنی طبیعت پر جبر کر کے محض دوستوں کے تقاضا پر جن کی اکثریت میرے رفقاء کار کی ہے۔حصول ثواب کی خاطر کچھ اور جس ترتیب سے دماغ میں آتا ہے، سپرد قلم کر رہا ہوں۔امید ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد اُذْكُرُوا مَوْتَكُمْ بِالْخَيْرِ کے ماتحت ایسے بعض اور جماعت کے اہل قلم احباب جن کو سید محمود اللہ شاہ صاحب کو دیکھنے کا موقعہ ملا آپ کے اخلاق فاضلہ اور اوصاف کریمہ پر اپنے مخصوص شواہد پر مفصل روشنی ڈال کر احباب جماعت کو ممنون احسان فرما ئیں گے۔میں صرف ان کا ایک ادنی شریک کار کی حیثیت سے اپنے اس اعلیٰ شریک کار کے متعلق چند جذبات اظہار کروں گا اور یہ زمانہ ۱۹۴۴ء سے ۱۹۵۲ ء تک محیط ہے۔