سید محموداللہ شاہ — Page 56
56 56 کسی بھی شخص کی سیرت و اخلاق کے بارہ میں لکھنا بہت مشکل امر ہوتا ہے۔انسان کی اصل سیرت اس کا خدا جانتا ہے یا وہ خود۔ایک حد تک دوسرے جاننے والے اندازہ کر سکتے ہیں۔یہ ایک حقیقت ہے کہ سلسلہ احمدیہ کے بزرگان ہمیشہ ہی عاجزی وانکساری میں زندگی گزارتے رہے ہیں۔چونکہ زیادہ احباب کے حالات ضبط تحریر میں نہیں لائے جاتے اس وجہ سے ان کی بیشتر خوبیاں اور قابل تقلید نمونے پر دہ اختفاء میں رہ جاتے ہیں۔اس لئے ضروری ہوتا ہے کہ ان کے اعلیٰ اخلاق کے نمونے ہمیشہ زندہ رکھے جائیں اور اس مقصد کیلئے ان کے سوانح اکھٹے کرنا ناگزیر ہوتا ہے۔سیرت و سوانح نگاری کے بارہ میں سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: یہ بات ظاہر ہے کہ جب تک کسی شخص کے سوانح کا پو را نقشہ کھینچ کرنہ دکھلایا جائے تب تک چند سطریں جو اجمالی طور پر ہوں کچھ بھی فائدہ پبلک کو نہیں پہنچا سکتیں اور ان کے لکھنے سے کوئی نتیجہ معتد بہ پیدا نہیں ہوتا۔سوانح نویسی سے اصل مطلب تو یہ ہے کہ تا اس زمانے کے لوگ یا آنے والی نسلیں، ان لوگوں کے واقعات زندگی پر غور کر کے کچھ نمونہ ان کے اخلاق یا ہمت یا زہد و تقویٰ یا علم ومعرفت یا تائید دین یا ہمدردی نوع انسان یا کسی اور قسم کی قابل تعریف ترقی کا اپنے لئے حاصل کریں اور کم سے کم یہ کہ قوم کے اولوالعزم لوگوں کے حالات معلوم کر کے اس شوکت اور شان کے قابل ہو جائیں ، جو ( دین ) کے عمائد میں ہمیشہ سے پائی جاتی رہی ہے تا اس کو حمایت قوم میں مخالفین کے سامنے پیش کر سکیں اور یا یہ کہ ان لوگوں کے مرتبت یا صدق اور کذب کی نسبت کچھ رائے قائم کرسکیں اور ظاہر ہے کہ ایسے امور کے لئے کسی قدر مفصل واقعات کے جاننے کی ہر ایک کو ضرورت ہوتی ہے۔اور بسا اوقات