سید محموداللہ شاہ — Page 43
43 حضرت سید محمود اللہ شاہ صاحب کی حیات طیبہ کئی تعلیمی اور تدریسی کارناموں سے بھری پڑی ہے۔آپ کو اللہ تعالیٰ نے پہلے مشرقی افریقہ پھر انڈیا اور بعد میں پاکستان میں تعلیمی اور تدریسی خدمات پیش کرنے کی توفیق عطا فرمائی۔آپ جہاں بھی تدریس کے میدان میں اُترے وہاں اپنی شخصیت، کردار، اخلاق فاضلہ اور انتظامی و تدریسی مہارت کے یادگار نقوش چھوڑے۔آپ کے شاگرد جہاں بھی گئے وہاں آپ کی تربیت سے بھر پور استفادہ کیا اور اگر آپ سے تعلق رکھنے والے سے کبھی کوئی ملاقات ہوئی تو اس سے بھی عقیدت ومحبت اور لحاظ کا اظہار کیا۔آپ کے شاگردوں کی بہت سی ایسی مثالیں ہیں جہاں بھی گئے وہاں اپنے نیک استاد کی تعلیم و تربیت کے نمونہ کو زندہ رکھا اور آپ کے کسی عزیز کا اگر آپ کے شاگردوں کو علم ہوا تو اس پر جان و مال فدا کرنے کیلئے تیار ہو گئے۔ایسی ایک نہیں کئی مثالیں ہیں۔اس باب میں آپ کے تعلیمی و تدریسی کاوشوں کا ذکر کیا جارہا ہے۔۱۹۴۴ء میں آپ کی تقرری بطور ہیڈ ماسٹر ٹی آئی سکول قادیان ہوئی۔جولائی اگست ۴۷ ء تک آپ اسی عہدہ پر خدمات بجالاتے رہے۔آپ کے عہد میں سکول ہذا میں گورنمنٹ سطح کے بعض اجلاسات بھی ہوئے۔جس میں آپ کے سکول کے معیار کو سراہا گیا۔آپ کی محنت اور خوبیوں کی بدولت یہ ادارہ توجہ کا مرکز بنتا گیا۔تاہم قیام پاکستان کے ساتھ یہ تسلسل کچھ دیر کیلئے تعویق کا شکار ہو گیا۔لیکن حضرت سید محمود اللہ شاہ صاحب کی انتھک محنت اور دعاؤں کی بدولت ٹی۔آئی۔ہائی سکول دوبارہ تعلیمی میدان میں دن دوگنی اور رات چوگنی ترقی کر گیا۔الحمد للہ قیام پاکستان اور ٹی آئی ہائی سکول قیام پاکستان کے چند ماہ بعد ٹی آئی ہائی سکول قادیان کا سٹاف ۳۱ / اکتوبر ۱۹۴۷ء کو