سید محموداللہ شاہ — Page v
He is the descendant of the Holy Prophet peace be upon him۔He is my brother۔کہ یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نسل سے ہیں اور میرے بھائی ہیں۔غرض کیا اپنے اور کیا غیر بھی آپ کی خوبیوں میں رطب اللسان تھے۔حضرت سید محمود اللہ شاہ صاحب ہمارے پیارے امام حضرت خلیفتہ ایسیح الرابع رحمہ للہ تعالیٰ کے ماموں تھے۔سید نا حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ اگست ستمبر 1988ء میں مشرقی افریقہ کے تاریخی دورہ پر تشریف لے گئے۔اس دورے کے دوران اور اس کے بعد بھی کئی مواقع پر آپ نے احباب جماعت احمدیہ کو بزرگان کے حالات زندگی اکٹھا کرنے کی تحریک فرمائی۔اس موقعہ پر حضور نے مشرقی افریقہ کے ابتدائی رفقاء اور بزرگان کے حالات زندگی اکٹھے کرنے کیلئے ایک کمیٹی بھی مقرر فرمائی۔حضور نے پہلی صدی کے آخری خطبہ جمعہ میں اپنے اپنے خاندان کے بزرگوں کے حالات اور ان کے احسانات کو جمع کرنے کی تحریک کرتے ہوئے فرمایا: اس امر کی طرف بھی متوجہ کرنا چاہتا ہوں کہ سمندر کی تہہ میں بغیر مقصد کے اپنی لاشیں بچھانے والے گھونگوں کی پہلی نسل اس بات کی ضمانت دیتی ہے کہ اس کی آئندہ نسلیں ضرور فتح یاب ہونگی اور وہ نسل سب سے بڑی فتح پانے والی ہے جو سب سے پہلے ترقی کے سلیقے سکھاتی ہے۔پس اپنے ان بزرگوں کے احسانات کو نہ بھولیں جو خدا کی راہ میں اپنی جانیں بچھاتے رہے جن پر احمدیت کی بلند و بالا عمارتیں تعمیر ہوئیں اور یہ عظیم الشان جزیرے ابھرے۔وہ لوگ ہماری دعاؤں کے خاص حق دار ہیں۔اگر آپ اپنے پرانے بزرگوں کو ان عظمتوں کے وقت یا درکھیں گے جو آپ کو خدا کے فضل عطا کرتے ہیں تو آپ کو حقیقی انکساری کا عرفان نصیب ہوگا۔تب آپ جان لیں گے کہ آپ اپنی ذات میں کوئی بھی حقیقت نہیں رکھتے۔