سید محموداللہ شاہ

by Other Authors

Page iv of 179

سید محموداللہ شاہ — Page iv

i دیباچه مشرقی افریقہ میں احمدیت کا آغاز 1895ء میں سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے عہد سعادت میں ہوا۔برصغیر پاک و ہند سے سینکڑوں لوگ روزگار کے سلسلہ میں اس زمانہ کی برٹش کالونی ( کینیا ) میں آکر آباد ہو گئے تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت کرنے والے بیسیوں احباب کرام بھی اُن انڈینز میں شامل تھے۔حضرت ڈاکٹر رحمت علی صاحب، حضرت ڈاکٹر فیض علی صاحب، حضرت شیخ نور احمد صاحب، حضرت ڈاکٹر محمد اسماعیل صاحب گوڑیانی، حضرت شیخ حامد علی صاحب ، حضرت بابو محمد افضل صاحب مؤسس البدر اور کئی دیگر احباب کرام مشرقی افریقہ میں باقاعدہ جماعت میں شامل تھے۔مشرقی افریقہ میں اس آباد کاری اور آمد ورفت کا سلسلہ خلافت اولیٰ اور خلافت ثانیہ میں بھی جاری رہا۔خلافت ثانیہ میں حضرت سید محمود اللہ شاہ صاحب بھی افریقہ تشریف لے گئے ، جہاں آپ قریباً 16 سال تربیتی اور تعلیمی خدمات بجالاتے رہے۔آپ کے والد ماجد کا نام حضرت ڈاکٹرسیدعبدالستارشاہ صاحب نور اللہ مرقدہ ہے۔جو ۲۷ سال تحصیل رعیہ ضلع سیالکوٹ ( حال ضلع نارووال ) میں بطور اسسٹنٹ سرجن خدمات بجالاتے رہے۔کینیا میں حضرت شاہ صاحب کو اکثر گورنر زمختلف تقاریب میں مدعو کیا کرتے تھے۔ایک دفعہ برصغیر کی معروف شخصیت محترم سر آغا خاں صاحب نیروبی تشریف لے گئے۔ایسے ہی موقعہ پر کسی تقریب میں حضرت شاہ صاحب کی سر آغا خان صاحب سے ملاقات ہوئی۔اس تقریب میں محترم سر آغا خان صاحب نے سب سے ہاتھ ملائے اور حضرت شاہ صاحب کو گلے لگایا۔تو اس وقت گورنر صاحب نے سر آغا خان سے کہا کہ تم نے کیوں ان کو گلے لگایا ہے جبکہ باقی سب سے ہاتھ ملانے پر اکتفا کیا ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ