سید محموداللہ شاہ — Page 28
28 جماعت نے شیخ صاحب کے ساتھ پورا پورا تعاون کیا۔یہاں تک کہ بجائے چھ ماہ کے شیخ صاحب کو وہاں زیادہ عرصہ ٹھہر نا پڑا اور نیروبی کی جماعت اپنی ہمت سے ایک مستقل مشن قائم کرتی ہوئی نظر آتی ہے۔اور ان کا کام کسی طرح پر بھی دوسرے مشنوں سے کم نہیں۔بلکہ اس اعتبار سے کہ یہ مشن تمام مقامی اخراجات کو خود برداشت کر رہا ہے ایک امتیازی حیثیت رکھتا ہے۔جس کے لئے تمام احباب جماعت نیروبی قابل شکر یہ اور دعاؤں کے مستحق ہیں۔سید محمود اللہ شاہ صاحب بی۔اے۔بی۔ٹی۔قاضی عبدالسلام صاحب ڈاکٹر بدرالدین صاحب اور ڈاکٹر فضل الدین صاحب خاص طور پر قابل شکر یہ ہیں۔ا نیروبی میں کوئی خاص عام پبلک لائبریری تو نہیں۔ہر ایک قوم نے اپنی الگ الگ لائبریری بنائی ہوئی ہے۔میکملن (Macmillan) لائبریری شہر کے وسط میں واقع ہے۔اس میں یورپین کے سوا اور کسی کو جانے کی اجازت نہیں۔گذشتہ دنوں مجھے ( مراد مکرم شیخ مبارک احمد صاحب مربی سلسلہ نیروبی ) میکملن لائبریری کے انچارج سے ملنے کا اتفاق ہوا۔اُن سے باتوں باتوں میں اس کا ذکر آیا کہ لائبریری کے لئے عام اجازت ہونی چاہئے۔اور ہر اس شخص سے جو لائبریری سے فائدہ اٹھانا چاہے چندہ لے لیا جائے۔کہنے لگے ہمیں خود بھی اس بات کا خیال ہے۔مگر میکملن جس نے کئی ہزار پونڈ اس پر صرف کیا اور اسے ایک بورڈ کے سپرد کیا ہے۔اس نے یہ وصیت کی تھی۔کہ پورپین کے سوا اور کسی کو اجازت نہ دی جائے۔ہمارے مکرم و محترم سید محمود اللہ شاہ صاحب ہی ایک ایسے شخص ہیں۔جنہیں اس لائبریری والوں نے بغیر کسی درخواست و مطالبہ کے اجازت دی ہوئی ہے۔“ (سالانہ رپورٹ صدرانجمن احمد یہ قادیان مئی ۱۹۳۴ء تا اپریل ۱۹۳۵ صفحه ۵ تا ۶۷) انفاق فی سبیل الله لوکل ( دعوۃ الی اللہ ) کے سلسلہ میں بعض احباب نہایت با قاعدگی کے ساتھ علاوہ دوسرے چندوں کے تربیتی فنڈ میں بھی چندہ دیتے رہے ہیں۔اللہ تعالیٰ ان کے اخلاص و وفا میں برکت دے۔آمین۔ان کے اسماء گرامی حسب ذیل ہیں۔