سید محموداللہ شاہ

by Other Authors

Page 150 of 179

سید محموداللہ شاہ — Page 150

150 موعود نور اللہ مرقدہ نے بھی شمولیت فرمائی اور کئی اور بزرگان بھی شامل ہوئے۔حضرت صاحبزادہ مرزا عزیز احمد بھی شامل ہوئے۔سیرت و شمائل (نوٹ مزید تفصیل کے لئے دیکھئے الفضل لا ہور ۱۷ ، ۱۸ رمئی ۱۹۵۲ء) ایک بات تو یہ میں بتانا چاہتی ہوں کہ آپ نہایت نیک بہت ہی منتقی اور پر ہیز گار انسان تھے۔سخت بیماری کی حالت میں بھی تہجد نہیں چھوڑتے تھے۔انہوں نے مجھے خود بتایا کہ ہمیں تو اس بات کا پتہ ہی نہیں تھا کہ تہجد جو ہے یہ لازمی اور فرض نماز نہیں ہے۔بلکہ ہم سمجھتے تھے پانچوں نمازوں کی طرح تہجد بھی فرض ہے۔انہوں نے بتایا کہ حضرت سید عبدالستار شاہ صاحب جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے۔تو انہوں نے اپنے بچوں کا تعارف کروایا اور مجھ سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے قرآن کریم سنا اور قرآن کریم دونوں بھائیوں نے سنایا یعنی حضرت سید عزیز اللہ شاہ صاحب نے بھی۔جب حضرت سید محمود اللہ شاہ صاحب کی وفات ہوئی۔تو حضرت سیدہ نواب مبارکہ بیگم صاحبہ نوراللہ مرقدہ تشریف لائیں۔تو انہوں نے مجھے بتایا کہ انہوں نے اور حضرت سید عزیز اللہ شاہ صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو قرآن کریم سنایا تھا۔اور ایک موقعہ پر حضرت اقدس علیہ السلام نے اس خاندان کو بہشتی ٹبر کا نام عطا فر مایا ہے۔حضرت شاہ صاحب نے مجھے بتایا کہ سات سال کی عمر میں نماز شروع کی اور بارہ یا تیرہ سال کی عمر میں نماز تہجد شروع کی۔میرے والد صاحب نے کہا تھا کہ تہجد پڑھا کر و۔وہ دن اور آج کا دن میں نے کبھی تہجد نہیں چھوڑی اور میں نے کئی دفعہ کہنا کہ شاہ صاحب آج آپ کو بخار ہے آپ کا بلڈ پریشر بڑا ہائی ہے۔تو مجھے کہتے کہ تم چپ رہو ان وجوہات سے میں تہجد نہیں چھوڑ سکتا۔آپ بہت خلیق اور پارسا انسان تھے۔آپ سے اگر کوئی چیز مانگتا تو ضرور اس کی ضرورت پوری کر دیتے۔آپ کے پاس ایک نہایت قیمتی اوور کوٹ تھا جو انگلینڈ سے کسی